سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 62
سیرت المہدی 62 حصہ اوّل 86 کی بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ میں نے کبھی حضرت مسیح موعود کو اعتکاف بیٹھتے نہیں دیکھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بھی مجھ سے یہی بیان کیا ہے۔87 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے سید فضل شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہاں مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے۔میں پاس بیٹھا تھا۔بھائی عبداللہ صاحب سنوری بھی پاس تھے اور بعض اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت صاحب سب کے ساتھ گفتگو فرماتے تھے۔مگر جب بھائی عبداللہ صاحب بولتے تھے تو حضرت صاحب دوسروں کی طرف سے توجہ ہٹا کر ان کی طرف توجہ کر لیتے تھے۔مجھے اس کا ملال ہوا اور میں نے ان پر رشک کیا۔حضرت صاحب میرے اس خیال کو سمجھ گئے اور میری طرف مخاطب ہو کر فرمانے لگے شاہ صاحب آپ جانتے ہیں یہ کون ہیں؟ میں نے عرض کیا ہاں حضرت میں بھائی عبداللہ صاحب کو جانتا ہوں۔آپ نے فرمایا ہمارا یہ مذہب ہے کہ قدیمان خود را بیفزائے قدر یہ آپ سے بھی قدیم ہیں۔سید فضل شاہ صاحب کہتے تھے کہ اس دن سے میں نے سمجھ لیا کہ ہمارا ان سے مقابلہ نہیں یہ ہم سے آگے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جس وقت سید فضل شاہ صاحب نے یہ روایت بیان کی اس وقت میاں عبداللہ صاحب سنوری بھی پاس بیٹھے تھے اور میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں پر نم تھیں۔88 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب نے ۱۸۸۴ء میں ارادہ فرمایا تھا کہ قادیان سے باہر جا کر کہیں چلہ کشی فرما ئیں گے اور ہندوستان کی سیر بھی کریں گے۔چنانچہ آپ نے ارادہ فرمایا کہ سو جان پور ضلع گورداسپور میں جا کر خلوت میں رہیں اور اس کے متعلق حضور نے ایک اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا پوسٹ کارڈ بھی مجھے روانہ فرمایا۔میں نے عرض کیا کہ مجھے بھی اس سفر اور ہندوستان کے سفر میں حضور ساتھ رکھیں۔حضور نے منظور فرمالیا۔مگر پھر حضور کو سفر سو جان پور کے متعلق الہام ہوا کہ تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی۔چنانچہ آپ نے سو جان پور جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور ہوشیار پور جانے کا ارادہ کر لیا۔جب آپ ماہ جنوری ۱۸۸۶ء میں ہوشیار پور جانے لگے تو مجھے خط لکھ کر حضور