سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 644 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 644

سیرت المہدی 644 حصہ سوم علیہ السلام کے ابتلاؤں کے قصے اکثر سنا یا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ عام طریق تھا کہ نصیحت کے لئے گذشتہ انبیاء اور صلحاء کے حالات سُناتے تھے۔706 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ آقا جونو کر کو سزا دیتا ہے۔یا خدا تعالے جو بندہ پر گرفت کرتا ہے وہ بعض اوقات صرف ایک گناہ کا نتیجہ نہیں ہوتا۔مگر بہت سی سابقہ باتیں جمع ہو کر یہ نتیجہ پیدا کرتی ہیں اور آپ اس بات کو سمجھانے کے لئے ایک حکایت بھی بیان کیا کرتے تھے۔کہ ایک دفعہ مہاراجہ شیر سنگھ نے اپنے ایک باورچی کو کھانے میں نمک زیادہ ڈالنے کی سزا میں حکم دیا کہ اس کی سب جائیداد ضبط کر کے اسے قید خانہ میں ڈال دیا جائے۔اس پر کسی اہلکار نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ مہاراج اتنی سی بات پر یہ سزا بہت سخت ہے۔راجہ کہنے لگا کہ تم نہیں جانتے۔یہ صرف نمک کی سزا نہیں۔اس کم بخت نے میرا سو بکرا ہضم کیا ہے۔707 بسم الله الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج الحق صاحب نے پڑھائی۔حضور علیہ السلام بھی اس نماز میں شامل تھے۔تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انہوں نے بجائے مشہور دعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی۔جس کا یہ مصرع ہے۔" اے خدا! اے چارہ آزار ما ! خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فارسی نظم نہایت اعلیٰ درجہ کی مناجات ہے جور وحانیت سے پر ہے۔مگر معروف مسئلہ یہ ہے کہ نماز میں صرف مسنون دعائیں بال جھر پڑھنی چاہئیں۔باقی دل میں پڑھنی چاہئیں پس اگر یہ روایت درست ہے تو حضرت صاحب نے اس وقت خاص کیفیت کے رنگ میں اس پر اعتراض نہیں فرمایا ہو گا۔اور چونکہ ویسے بھی یہ واقعہ صرف ایک منفرد واقعہ ہے اس لئے میری رائے میں حضرت صاحب کا یہ منشاء ہر گز نہیں ہوگا۔کہ لوگ اس طرح کر سکتے ہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت صاحب