سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 643
سیرت المہدی 643 حصہ سوم لاہور کے ایک غیر احمدی وکیل ہوتے تھے جواب فوت ہو چکے ہیں۔اور چوہدری رستم علی صاحب جن کا اس روایت میں ذکر ہے وہ ایک نہایت مخلص اور فدائی احمدی تھے اور سلسلہ کے لئے مالی قربانی میں نہایت ممتاز تھے۔عرصہ ہوا فوت ہوچکے ہیں۔703 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب زلزلہ کے بعد باغ میں تشریف رکھتے تھے۔تو آپ نے براہین احمدیہ حصہ پنجم کی وہ نظم لکھنی شروع کی۔جس میں پروردگار۔ثمار - کار۔سنار وغیرہ قوافی آتے ہیں۔آپ نے ہمیں فرمایا۔کہ اس طرح کے قوافی جمع کر کے اور لکھ کر ہم کو دو کہ ہم ایک نظم لکھ رہے ہیں۔اس پر میں نے اور حضرت میاں صاحب نے اور اور لوگوں نے آپ کو بہت سے قافیے اس وزن کے لکھ کر پیش کئے۔اور زبانی بھی عرض کئے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ اس وقت میں نے بھی بعض قافیے سوچ کر عرض کئے تھے۔اور حضرت میاں صاحب سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی مراد ہیں۔اور زلزلہ سے مراد۱۹۰۵ء کا زلزلہ ہے جس کے بعد آپ کئی ماہ تک اپنے باغ میں جا کر ٹھہرے تھے۔یہ وہی باغ ہے جس کے قریب بعد میں مقبرہ بہشتی قائم ہوا۔صلى الله 704 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے فرمایا۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بیٹوں کے نام طیب اور طاہر تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ تاریخی روایتوں میں اس کے متعلق اختلاف ہے۔بعض مورخین کا خیال ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ایک لڑکا عبداللہ تھا۔اور اسی کے یہ دوزائد نام طاہر اور طیب تھے۔اور بعض طاہر اور طیب کو دو جداجد الڑ کے قرار دیتے ہیں۔اور اس روایت سے مؤخر الذکر روایت کی تصدیق ہوتی ہے۔ان کے علاوہ آنحضرت ﷺ کے دو اور بیٹے قاسم اور ابراہیم بھی تھے۔مگر سب بچپن میں فوت ہو گئے۔اور 705 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچوں اور عورتوں میں نصیحت اور وعظ کے دوران میں حضرت یونس علیہ السلام اور حضرت ایوب