سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 641 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 641

سیرت المہدی 641 حصہ سوم پاس رکھ کر اگلے دن صبح پنڈت صاحب کے مکان پر لے گیا۔پنڈت صاحب نے مجھے کہا کہ مجھے صرف اس قدر علم ہے کہ ایک دن ڈپٹی کمشنر صاحب اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس نے مجھے بلوا کر یہ دریافت کیا تھا کہ اگر مستغیث امرت سرکا رہنے والا ہوا اور ملزم ہوشیار پور کا تو کیا دعویٰ امرت سر میں کیا جاسکتا ہے۔اور میں نے جواب دیا تھا۔کہ اگر وقوعہ بھی ہوشیار پور کا ہے تو دعوی بھی وہیں کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ ہر دو صاحب میرے ساتھ اس امر میں بحث بھی کرتے رہے۔پنڈت صاحب نے نائب کورٹ کو بھی بلا کر دریافت کیا لیکن اس نے بھی کوئی اطلاع نہ دی۔میں اتنی خبر لے کر گورداسپور آیا اور چودھری رستم علی صاحب کو بتایا۔انہوں نے کہا۔کہ حضرت اقدس کی خدمت میں اسی طرح جا کر عرض کر دو۔چنانچہ میں اور میاں خیر الدین صاحب اسی وقت قادیان آئے اور حضور کی خدمت میں عرض کیا۔جب ہم قادیان کے لئے چل پڑے۔تو اسی روز امرت سر سے حکم آیا کہ مارٹن کلارک نے جو استغاثہ زیر دفعہ ۱۰۷ ضابطہ فوجداری امرت سر میں دائر کیا ہے اور جس کا وارنٹ پہلے بھیجا جا چکا ہے۔جس وارنٹ کے روکنے کے لئے تار بھی دی گئی تھی۔وہ مقدمہ ضلع گورداسپور میں تبدیل کیا جاتا ہے۔گورداسپور سے اسی روز حضرت صاحب کو نوٹس جاری کر دیا گیا کہ اگلے روز ڈپٹی کمشنر کا مقام بٹالہ میں ہوگا اور وہیں آپ پیش ہوں۔چودھری رستم علی صاحب نے اس حکم کے جاری ہونے سے پہلے موضع او جلہ میں آکر منشی عبد الغنی صاحب نقل نویس گورداسپور کو جو میرے چھوٹے بھائی ہیں اور اُس وقت سکول میں تعلیم پارہے تھے۔ایک خط اس مضمون کا لکھوا کر دیا۔کہ کل بٹالہ میں حضور کی پیشی ہے۔اس کا انتظام کر لینا چاہئے۔ایسا نہ ہو کہ مولوی رسول بخش کی طرح موقعہ دیا جائے۔(ایک شخص مولوی رسول بخش پر ان دنوں میں ایک فوجداری مقدمہ بنایا گیا تھا۔جس میں اُسے مہلت نہ دی گئی تھی اور فوراً زیر حراست لے لیا گیا تھا ) یہ خط چودھری صاحب نے میرے بھائی سے لکھوا کر میرے ایک ملازم سمی عظیم کے ہاتھ قادیان روانہ کر دیا۔میں اس ملازم کو قادیان میں دیکھ کر سخت حیران ہوا کہ وہ اتنی جلدی کیوں کر پہنچ گیا ہے۔اس نے مجھے وہ خط دیا۔میں نے اس کی اطلاع اندر حضور کو بھیجی۔حضور اسی وقت مسجد مبارک میں تشریف لائے اور مجھے خط پڑھ کر سُنانے کا حکم دیا۔میں نے سُنایا۔حضور نے فرمایا۔اسی وقت تم گورداسپور چلے جاؤ اور چودھری