سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 642 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 642

سیرت المہدی 642 حصہ سوم صاحب سے مل کر شیخ علی احمد وکیل کو لے کر کل صبح بٹالہ پہنچ جاؤ۔اسی وقت حضرت صاحب نے مرزا ایوب بیگ صاحب کو لاہور روانہ فرمایا کہ وہ وہاں سے شیخ رحمت اللہ صاحب اور ایک وکیل کو لے کر کل بٹالہ پہنچ جائیں۔خاکسار مع میاں خیر الدین صاحب اور اپنے ملازم میاں عظیم کے اسٹیشن چھینا کی طرف گورداسپور والی گاڑی میں سوار ہونے کے لئے روانہ ہوا۔بارش کی وجہ سے کیچڑ زیادہ تھا اور ہمارے پاؤں سخت پھسلتے تھے۔بار بارگر تے اور پھر اٹھکر چلتے۔خشیت کا اس وقت یہ حال تھا۔کہ زارزار رو رہے تھے اور دعائیں کر رہے تھے۔سیکھواں راستہ میں آتا تھا۔وہاں پہنچ کر میر سانون کو جس کا گھر راستہ پر ہے میاں امام الدین و جمال الدین کو السلام علیکم دینے کے لئے بھیج کر خود اسی طرح سے آگے چل پڑے۔ایک میل کے فاصلہ پر میاں امام الدین و جمال الدین صاحب بھی ہمیں مل گئے۔باہم مشورہ کر کے میاں امام الدین کو گھر کی حفاظت کے لئے واپس بھیج دیا اور میاں جمال الدین صاحب ہمارے ساتھ ہوئے۔ہم چاروں بمشکل افتان و خیزاں گاڑی کے وقت چھینا پہنچے۔شام کو گورداسپور پہنچ کر چودھری صاحب کو ملے اور حضرت کا پیغام سُنایا۔شیخ علی احمد صاحب اس روز اپنے گاؤں دھرم کوٹ رندھاوا میں گئے ہوئے تھے۔وہاں ایک شخص کو روانہ کیا گیا۔کہ شیخ صاحب کو کل لے کر بٹالہ پہنچ جانا۔خاکسار اور چودھری صاحب را نا جلال الدین صاحب انسپکٹر پولیس گورداسپور کے پاس مشورہ کے لئے گئے۔انہوں نے ہمیں تسلی دلائی کہ اتنی زبر دستی نہیں ہوگی اور ہمیں ضرور موقعہ دیا جائے گا۔بہر حال اگلے روز صبح میاں خیر الدین، جمال الدین اور خاکسار بٹالہ پہنچ گئے۔شیخ علی احمد صاحب بھی پہنچ گئے۔سرکاری طور پر حضور کو بٹالہ تشریف لانے کا ڈپٹی کمشنر کا نوٹس پہنچ گیا۔لاہور سے شیخ رحمت اللہ صاحب اور مولوی فضل دین صاحب وکیل آگئے۔اور دوسرے دوست بھی پہنچ گئے۔مگر مقد مہ اس روز پیش ہو کر ملتوی ہو گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مارٹن کلارک کے مقدمہ کے ابتدائی حالات یعنی اس مقدمہ کے مقدمات حضرت صاحب کی کسی کتاب میں درج نہیں تھے۔سوالحمد للہ کہ اس روایت میں مل گئے ہیں۔ہاں اصل مقدمہ کا ذکر حضور نے اپنی تصنیف ”کتاب البریہ" میں مفصل تحریر فرمایا ہے۔بلکہ مقدمہ کی مسل بھی درج کر دی ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی فضل دین صاحب وکیل جن کا اس روایت میں ذکر ہے وہ