سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 630
سیرت المہدی 630 حصہ سوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرم دین کے مقدمہ میں گورداسپور تشریف لے گئے تو ایک دن جبکہ آپ نے گورداسپور کی کچہری کے پاس جو جامن ہے اس کے نیچے ڈیرا لگایا ہوا تھا۔خواجہ کمال الدین صاحب جنہوں نے اس وقت اپنے سر کی ٹنڈ کرائی ہوئی تھی۔اس جامن کے نیچے ٹہل رہے تھے۔حضرت صاحب نے جب خواجہ صاحب کا سرمنڈا ہوا دیکھا تو اُسے ناپسند فرمایا اور آئندہ کے لئے روکنے کے خیال سے فرمایا کہ یہ علامت منافق یا یہود کی ہے۔مجھے یاد نہیں رہا۔کہ ان دونوں لفظوں میں سے حضور نے علامتِ منافق یا علامت یہود کونسالفظ فرمایا۔مگر آپ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ ضرور نکلے تھے کہ منافق یا یہود۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جہاں تک مجھے یاد ہے حضرت صاحب یہ فرمایا کرتے تھے کہ سرمنڈانا خوارج کی علامت ہے اور اسے نا پسند فرماتے تھے۔685 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جس وقت حضرت اقدس نے مینار کی بنیاد رکھوائی تو اس کے بعد کچھ عمارت بن کر کچھ عرصہ تک مینار بننا بند ہو گیا تھا۔اس پر حضور نے ایک اشتہار دیا کہ اگر سو آدمی ایک ایک سو روپیہ دے دیویں تو دس ہزار روپیہ جمع ہو جائے گا اور مینار تیار ہو جائے گا۔اور ان دوستوں کے نام مینار پر درج کئے جائینگے ہم تینوں بھائیوں نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ ہم مع والد یکصد روپیل کر ادا کر سکتے ہیں۔اگر حضور منظور فرمائیں۔تو حضور نے بڑی خوشی سے منظور فرمایا۔اور ہم نے سور و پیدا دا کر دیا۔686 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خطرات کے وقت ہمیشہ احتیاط کا پہلو مد نظر رکھتے تھے۔چنانچہ طاعون کے ایام میں دروازہ پر پہرہ رہتا تھا۔کہ دیہات کی ہر کس و ناکس عورت گندے کپڑوں کے ساتھ اندر نہ آنے پائے ( کیونکہ گھی وغیرہ فروخت کرنے کے لئے دیہات کی عورتیں آتی رہتی تھیں) اسی طرح آپ کو شہتیر والا مکان ناپسند تھا اور فرماتے تھے کہ ایسی چھت خطرناک ہوتی ہے۔خود اپنی رہائش کے دالان کی چھت جس میں چار شہتیر تھے بدلوا کر صرف کڑیوں والی چھت ڈالوائی تھی۔اسی طرح آپ نے لدھیانہ سے دہلی جاتے ہوئے ۱۸۹۱ء میں