سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 629
سیرت المہدی 629 حصہ سوم استخارہ کراتے تھے۔استخارہ یہ سکھایا تھا کہ سوتے ہوئے " يَا خَبِیرُ اخْبِرُنِي “ پڑھا کرو۔اور پڑھتے پڑھتے سو جایا کرو اور درمیان میں بات نہ کیا کرو۔میں صبح سب گھر والوں میں پھر کر خوا ہیں پوچھتا تھا اور حضرت صاحب کو آ کر اطلاع دیتا تھا۔پھر حضرت صاحب سب کی تعبیر بتاتے اور میں سب کو جا کر اطلاع دیتا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ مرزا غلام مرتضے صاحب اور مرزا غلام محی الدین صاحب حقیقی بھائی تھے۔مرز اغلام مرتضے صاحب حضرت صاحب کے والد تھے اور مرزا غلام محی الدین صاحب چچا تھے۔اس زمانہ میں بس انہی دو گھروں میں سارا خاندان تقسیم شدہ تھا۔اب مرزا غلام محی الدین صاحب کی اولا د میں سے صرف مرزا اگل محمد ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ استخارہ کی اصل مسنون دُعا تو لمبی ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ مرزا دین محمد صاحب کی سہولت کے لئے آپ نے انہیں یہ مختصر الفاظ سکھا دیئے ہوں گے۔683 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ دعویٰ سے پہلے ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے مکان واقع بٹالہ پر تشریف فرما تھے۔میں بھی خدمت اقدس میں حاضر تھا۔کھانے کا وقت ہوا۔تو مولوی صاحب خود حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے ہاتھ دھلانے کے لئے آگے بڑھے۔حضور نے ہر چند فرمایا کہ مولوی صاحب آپ نہ دھلائیں۔مگر مولوی صاحب نے باصرار حضور کے ہاتھ دھلائے اور اس خدمت کو اپنے لئے فخر سمجھا۔ابتداء میں مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زاہدانہ زندگی کی وجہ سے آپ کی بہت عزت کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے اس قسم کے واقعات دوسرے لوگوں سے بھی سُنے ہیں کہ دعویٰ سے قبل مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی حضرت صاحب کی بہت عزت کرتے تھے اور اس طرح پیش آتے تھے جس طرح انہیں آپ کے ساتھ خاص عقیدت ہے۔مگر جب مخالفت ہوئی تو اُسے بھی انتہا تک پہنچا دیا۔684 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب