سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 627 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 627

سیرت المہدی 627 حصہ سوم حضرت صاحب نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا کہ میں مرزا نظام الدین صاحب کا پھوپھی زاد بھائی اور مرز انتھا بیگ صاحب کا بیٹا لنگر وال سے ہوں۔اس پر حضرت نے مجھے پہچان لیا۔اس کے بعد میں آپ کے پاس آنے جانے لگا۔اور آپ کے ساتھ مل کر نماز پڑھنے لگ گیا۔پھر اس کے بعد حضرت صاحب کا کھانا بھی میں ہی اندر سے لاتا اور کھلاتا تھا۔گھر میں سب کھانے کا انتظام والدہ صاحبہ مرزا سلطان احمد صاحب کے سپر د تھا۔اس کے قبل حضرت صاحب نے ایک چھکا رکھا ہوتا تھا۔جس میں کھانا وغیرہ رکھدیا جاتا تھا اور حضرت صاحب اُسے اوپر چوبارہ میں کھینچ لیتے تھے۔اس طرح میری حضرت صاحب کے ساتھ بہت محبت ہوگئی اور حضرت صاحب نے مجھے فرمایا۔تم میرے پاس ہی سو رہا کرو اور بعض دفعہ میں کھانے میں بھی شریک ہو جاتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ مرزا دین محمد صاحب کی ہمشیرہ مرزا نظام الدین صاحب کے عقد میں تھیں۔یہ شادی بہت پرانی تھی۔یعنی مرزا دین محمد صاحب کے ہوش سے قبل ہوئی تھی۔مرزا دین محمد صاحب کی سگی پھوپھی مرزا غلام محی الدین صاحب کے گھر تھیں۔گویا مرزا نظام الدین صاحب مرزا دین محمد صاحب کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے۔680 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جن دنوں میری آمد و رفت حضرت صاحب کے پاس ہوئی۔ان ایام میں حضرت صاحب اپنے موروثیوں وغیرہ کے ساتھ مقدمات کی پیروی کے لئے جایا کرتے تھے۔کیونکہ دادا صاحب نے یہ کام آپ کے سپرد کیا ہوا تھا۔تایا صاحب باہر ملازم تھے۔جب حضرت صاحب بٹالہ جاتے مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔جب گھر سے نکلتے تو گھوڑے پر مجھے سوار کر دیتے تھے۔خود آگے آگے پیدل چلے جاتے۔نوکر نے گھوڑا پکڑا ہوا ہوتا تھا۔کبھی آپ بٹالہ کے راستہ والے موڑ پر سوار ہو جاتے اور کبھی نہر پر۔مگر اس وقت مجھے اتارتے نہ تھے۔بلکہ فرماتے تھے کہ تم بیٹھے رہو۔میں آگے سوار ہو جاؤ نگا۔اس طرح ہم بٹالہ پہنچتے۔ان ایام میں بٹالہ میں حضرت صاحب کے خاندان کا ایک بڑا مکان تھا۔یہ مکان یہاں محلہ اچری دروازے میں تھا۔اُس میں آپ ٹھہرتے تھے۔اس مکان میں ایک جولاہا حفاظت کے لئے رکھا ہوا تھا۔مکان کے چوبارہ میں آپ رہتے تھے۔شام کو اپنے کھانے