سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 626
سیرت المہدی 626 حصہ سوم 677 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ماسٹر عبد الرحمن صاحب بی۔اے نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۳ء کے قریب میں نے چند نو مسلموں کی طرف سے دستخط کروا کر ایک اشتہار شائع کیا۔جس کا عنوان ” قادیان اور آریہ سماج تھا۔اس اشتہار سے پنجاب میں شور پڑ گیا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا۔” حَربًا مُّهَيَّجا یعنی جنگ کو جوش دیا گیا ہے۔اس پر قادیان کے آریوں نے بھی جلسہ کیا۔اس کے جواب میں حضرت صاحب نے اپنی کتاب «نسیم دعوت “ تالیف فرمائی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کا ذکر روایت نمبر ۶۶۲ میں بھی ہو چکا ہے۔678 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگر وال نے مجھ سے بیان کیا کہ جب بچپن میں قادیان میں میری آمد ورفت شروع ہوئی تو میں مرزا غلام مرتضیٰ صاحب اور مرزا غلام قادر صاحب کو تو خوب جانتا تھا اور ان سے ملتا تھا۔مگر حضرت صاحب کو نہیں جانتا تھا کیونکہ وہ گوشہ نشین تھے۔صرف مسجد میں نماز کے لئے جاتے تھے۔والا کبھی نظر نہیں آتے تھے۔کمرہ بند رکھ کر اس کے اندر رہتے تھے۔میں نے پہلی دفعہ حضرت صاحب کو اس وقت دیکھا۔جب میں ایک دفعہ گھر سے دادا صاحب یعنی مرزا غلام مرتضے صاحب کا کھانا لایا۔اس وقت میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب سیڑھیوں سے چڑھ کر اپنے کمرہ میں چلے گئے اور دروازہ بند کر لیا۔میں نے تعجب کیا کہ یہ کون شخص ہے۔اس پر میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ کون ہے۔تو بتایا گیا کہ دادا صاحب کا چھوٹا لڑکا ہے۔نیز مرزا دین محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ دادا صاحب کی وفات کے وقت میری عمر گیارہ سال کی تھی۔679 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ جب میں نے حضرت صاحب کو پہلے دن دیکھا تو مجھے آپ سے ملنے کا شوق پیدا ہوا۔سو دوسرے دن غالبا جب ظہر کی نماز پڑھ کر حضرت صاحب گھر آئے اور کمرہ میں جانے لگے۔تو میں پیچھے ہولیا۔اور جب کمرہ کا دروازہ بند کرنے لگے۔میں نے اس کے اندر ہاتھ دیدیا۔آپ نے مجھ سے پوچھا۔کیوں بھئی کیا کام ہے؟ میں نے کہا۔صرف ملنا ہے۔فرمایا۔اچھا آجاؤ۔چنانچہ میں کمرہ میں چلا گیا اور حضرت صاحب نے دروازہ بند کر لیا۔اس الہام کے الفاظ کے سلسلہ میں ملاحظہ ہونوٹ زمیر روایت نمبر ۶۶۲