سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 628 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 628

سیرت المہدی 628 حصہ سوم کے لئے مجھے دو پیسے دیدیتے تھے۔ان دنوں میں بھٹیاری جھیوری کی دکان سے دو پیسے میں دوروٹی اور دال مل جاتی تھی۔وہ روٹیاں میں لا کر حضرت صاحب کے آگے رکھ دیتا تھا۔آپ ایک روٹی کی چوتھائی یا اس سے کم کھاتے۔باقی مجھے کہتے کہ اس جولا ہے کو بلاؤ۔اسے دیدیتے اور مجھے میرے کھانے لئے چار آنہ دیتے تھے اور سائیں کو دو آنہ دیتے تھے۔اس وقت نرخ گندم کا روپیہ سوا رو پید فی من تھا۔بعض دفعہ جب تحصیل میں تشریف لے جاتے تو مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔جب تین یا چار بجتے تو تحصیل سے باہر آتے تو مجھے بلا کر ایک روٹی کھانے کے ناشتہ کے لئے دیدیتے اور خود آپ اس وقت کچھ نہ کھاتے تحصیل کے سامنے کنوئیں پر وضو کر کے نماز پڑھتے اور پھر تحصیلدار کے پاس چلے جاتے اور جب کچہری برخاست ہو جاتی تو واپس چلے آتے۔جب بٹالہ سے روانہ ہوتے تو پھر بھی مجھے سارا رستہ سوار رکھتے۔خود کبھی سوار ہوتے اور کبھی پیدل چلتے۔پیشاب کی کثرت تھی۔اس لئے گاہے بگا ہے ٹھہر کر پیشاب کرتے تھے۔681 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ابتداء میں میں نے حضرت صاحب سے بھی کچھ پڑھا ہے۔ایک فارسی کی کتاب تھی۔وہ پڑھی تھی۔لالہ ملا وامل۔شرم پت اور کشن سنگھ بھی پڑھتے تھے۔ملا وامل وشرم پت حکمت پڑھتے تھے اور کشن سنگھ قانون کی کتاب پڑھتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ لالہ ملا وامل اور لالہ شرم پت کا ذکر حضرت صاحب کی اکثر کتابوں میں آچکا ہے اور کشن سنگھ قادیان کا ایک باشندہ تھا جو سکھ مذہب کو بدل کر آریہ ہو گیا تھا۔مگر کیس رہنے دیئے تھے۔اس لئے اُسے لوگ کیسوں والا آریہ کہتے تھے۔اب ان تینوں میں سے صرف لالہ ملا وامل زندہ ہیں۔محرره ۱۰/۱۰/۳۸ 682 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ جب حضرت صاحب کے پاس میری آمد و رفت اچھی طرح ہوگئی اور میں آپ سے پڑھنے بھی لگ گیا۔تو حضور نے مجھے حکم دیا کہ ہر دو گھروں میں یعنی بخانہ مرزا غلام مرتضیٰ صاحب اور بخانہ مرزا غلام محی الدین صاحب کہہ دیا کرو کہ سب لوگ ہر روز سوتے وقت استخارہ کر کے سویا کریں اور جو خواب آئے وہ صبح ان سے پوچھ لیا کرو اور مجھ سے بھی