سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 609
سیرت المہدی 609 حصہ سوم 644 بسم الله الرحمن الرحیم۔مولوی امام الدین صاحب آف گولیکی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ خاکسار کا لڑکا قاضی محمد ظہور الدین اکمل ایام تعلیم انٹرنس میں گجرات کے ہائی سکول میں پڑھتا تھا۔وہ سخت بیمار ہو گیا۔چنانچہ آئندہ ترقی نہ کر سکا۔ہر چند علاج معالجہ کے علاوہ فقراء سے دعائیں کروائیں۔مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔آخر ایک ماہر طبیب نے میری والدہ مرحومہ اور مجھے الگ بلا کر کہہ دیا کہ آپ اس لڑکے کی ادویہ پر کچھ زیادہ خرچ نہ کریں۔کیونکہ اب تپ دق دوسرے درجہ میں ہے جو کہ جلد ہی تیسرے درجہ تک پہنچ کر بالکل مایوس کر دیگا۔اب صبر کریں۔ادھر عالموں اور مشائخوں نے بھی نا امید کر دیا۔اور صبر ہی کو کہا۔اگر چہ میں ان دنوں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا مرید ہو گیا تھا۔مگر کچھ شکوک تھے اور کچھ موانع دنیوی تھے آخر میں مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کے ہمراہ جوان ایام میں میرے پاس پڑھتے تھے۔قادیان دارالامان میں آیا اور ہم نے مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کھانا کھایا۔اسی اثناء میں میں نے حضور سے عرض کر دی۔کہ حضور میرالڑ کا بعارضہ تپ دق بیمار ہے اور اطبا نے مایوس کر دیا ہے اور میں نے یہ بات سنی ہوئی ہے۔کہ ”سُورُ الْمُؤْمِنِ شَفَاءُ ، یعنی مومن سے بچا ہوا کھانا شفا ہوتا ہے۔اس لئے آپ کے پس خوردہ کا سائل ہوں۔حضور نے تناول فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ اٹھا لو۔یہ الفاظ سنتے ہی مولوی غلام رسول صاحب نے فوراً دستر خوان سے حضرت اقدس کا پس خوردہ اٹھا لیا اور روٹی کے بھورے بنا کر محفوظ کر لئے۔اور گولیکی جا کر آہستہ آہستہ برخوردار کو کھلانے شروع کر دیئے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اُسے شفا دے دی۔یہ واقعہ تقریباً ۱۸۹۸ء کا ہے۔645 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھے سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مسیح کے بے باپ پیدا ہونے کا ذکر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے مسیح کو بے باپ پیدا کیا تا کہ یہ ظاہر کرے کہ اب بنی اسرائیل میں ایک مرد بھی ایسا باقی نہیں رہا جس کے نطفہ سے ایک پیغمبر پیدا ہو سکے۔اور اب اس قوم میں نبوت کا خاتمہ ہے اور آئندہ بنی اسمعیل میں نبی پیدا ہونے کا وقت آگیا ہے۔