سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 608
سیرت المہدی 608 حصہ سوم در حقیقت وہ وہی بن جاتا ہے۔اور فرمایا کہ ”ہمارا ارادہ ہے کہ ایسی خوابوں کو کتابی صورت میں شائع کیا جائے۔643 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی فخر الدین صاحب پنشنر حال محلہ دارالفضل قادیان نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ غالباً ۱۸۹۸ ء یا ۱۸۹۹ء کا واقعہ ہے۔کہ پہلی دفعہ خاکسار قادیان آیا۔اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔حضور انور کی زیارت کے لئے ہر وقت دل میں تڑپ رہتی تھی لیکن حضور کی مصروفیت دینی کی وجہ سے سوائے نمازوں یا صبح کی سیر کے موقعہ نہیں ملتا تھا۔ایک دن صبح ۸-۹ بجے کے درمیان چھوٹی مسجد ( مسجد مبارک ) میں بیٹھا تھا کہ ساتھ کے شمالی کمرہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز سنائی دی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کسی مرد کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں۔میں نے دریچے کی دراڑوں سے دیکھا۔تو معلوم ہوا کہ حضرت اقدس ٹہل رہے ہیں۔اور کوئی راج مکان کی مرمت یا سفیدی کر رہا ہے۔باتوں باتوں میں آریوں کی مخالفت کا ذکر آ گیا اور قادیان کے آریوں کی ایذا دہی کے ضمن میں آپ نے اس مستری کو مخاطب کر کے فرمایا۔ہمارا دل چاہتا ہے کہ جہاں ان لوگوں کی مڑھیاں ہیں وہاں گائیوں کے ذبح کرنے کے لئے مذبح بنایا جائے۔بس یہ فقرہ تھا جو میں نے سُنا۔اور آج حضور کی اس بات کو پورا ہوتے دیکھتا ہوں۔کہ اللہ تعالیٰ نے معجزہ کے طور پر مذبح اسی جگہ کے قریب بنایا۔جہاں ہندوؤں کی مڑھیاں ہوا کرتی تھیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بالعموم حضرت مسیح موعود علیہ السلام جملہ غیر مذاہب کے لوگوں کی بہت دلداری فرماتے تھے اور ان کی دل شکنی سے پر ہیز فرماتے تھے۔لیکن جب قادیان کے غیر مسلموں کی ایذارسانی حد سے گذرگئی تو پھر آپ نے کسی علیحدگی کے وقت میں ایمانی غیرت میں یہ الفاظ کہہ دیئے ہوں گے۔جو خدا نے پورے کر دیئے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ جن مڑھیوں کا اس روایت میں ذکر ہے وہ اب چند سال سے دوسری جگہ منتقل ہو گئی ہیں۔مگر یہ جگہ بدستور مڑ ہیوں کی یاد میں محفوظ ہے۔اور اب آکر اسی کے قریب مدیح بنا ہے۔