سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 610
سیرت المہدی 610 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے اس نکتہ کو اپنی بعض کتابوں میں بھی بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ خدا نے بنی اسرائیل سے نبوت کا انعام تدریجا چھینا ہے۔اوّل اوّل حضرت یحیی کو ایک بوڑھے اور مایوس شخص کے گھر خارق عادت طور پر پیدا کیا۔جس سے یہ جتانا منظور تھا۔کہ اب بنی اسرائیل سے نبوت کا انعام نکلنے والا ہے اور وہ اپنے اعمال کی وجہ سے محروم ہو چکے ہیں۔صرف خدا کے فضل نے سنبھال رکھا ہے۔اس کے بعد حضرت مسیح کو ایک ایسی عورت کے بطن سے پیدا کیا۔جسے کبھی کسی مرد نے نہیں چھوا تھا اور چونکہ نسل کا شمار پدری جانب سے ہوتا ہے اس لئے گویا بڑی حد تک بنی اسرائیل سے نبوت کو چھین لیا۔اور آخر آنحضرت ﷺ کو پیدا کر کے نبوت کو کلی طور پر بنو اسمعیل کی طرف منتقل کر لیا گیا۔646 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ عربی خطبہ الہامیہ جو آپ نے بقرعید کے موقعہ پر بیان فرمایا تھا۔وہ خطبہ الہامیہ کتاب کا صرف باب اوّل ہی ہے۔باقی کتاب الہامی خطبہ نہیں ہے۔اس خطبہ کے بعد آپ نے ایک دفعہ فرمایا کہ بعض لوگ اسے حفظ کر لیں۔اس پر خاکسار اور مولوی محمد علی صاحب نے اسے حفظ کر لیا تھا۔حضور فرماتے تھے کہ ہم کسی دن مسجد کی مجلس میں سنیں گے مگر اس کے سننے کا موقعہ نہ ہوا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ خطبہ الہامیہ ۱۹۰۰ء کی عید اضحی کے موقعہ پر ہوا تھا اور اصل الہامی خطبہ مطبوعہ کتاب کے ابتدائی ۳۸ صفحات میں آگیا ہے۔اگلا حصہ عام تصنیف ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ خطبہ الہامیہ سے یہ مراد نہیں کہ اس خطبہ کا لفظ لفظ الہام ہوا۔بلکہ یہ کہ وہ خدا کی خاص نصرت کے ماتحت پڑھا گیا اور بعض بعض الفاظ الہام بھی ہوئے۔647 بسم الله الرحمن الرحیم منشی عبد العزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جہلم کے سفر میں خاکسار حضرت صاحب کے ہمراہ تھا۔راستہ میں اسٹیشنوں پر لوگ اس کثرت سے حضرت صاحب کو دیکھنے کے لئے آتے تھے۔کہ ہم سب تعجب کرتے تھے کہ ان لوگوں کو کس نے اطلاع دے دی ہے۔بعض نہایت معمولی اسٹیشنوں پر بھی جو بالکل جنگل میں واقع تھے بہت کثرت سے لوگ پہنچ گئے تھے۔