سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 603 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 603

سیرت المہدی 603 حصہ سوم مجھے دے کر فرمایا۔کہ معلوم ہے یہ کپڑا تمہیں کس نے دیا ہے؟ پھر فرمایا۔یہ اسی کے بیٹے نے دیا ہے جس نے تمہارے ٹرنک لیکھرام کی تلاشی کے وقت تو ڑے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ شیخ نیاز محمد صاحب میاں محمد بخش کے لڑکے ہیں۔جو حضرت صاحب کے زمانہ میں کئی سال تک بٹالہ میں تھا نہ دار رہے تھے۔اور سخت مخالف تھے۔حضرت صاحب کو اس خیال سے کس قدر روحانی سرور حاصل ہوا ہو گا۔کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مخالفین کی اولا دکو پکڑ پکڑ کر حضور کے قدموں 66 میں گرا رہا ہے۔633 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور کو الہام ہوا۔" لَكَ خِطَابُ الْعِزَّةِ “۔ایک عزت کا خطاب۔ایک عزت کا خطاب۔اس کے ساتھ ایک بڑا نشان ہو گا۔چنانچہ ان چاروں فقروں کو ایک کاغذ پر خوشخط لکھوا کر مسجد مبارک کی شمالی دیوار پر لگوا دیا گیا۔جہاں یہ کاغذ مدت تک لگا رہا۔اسی طرح ایک دفعہ ایک الہام " غَثَمَ غَثَمَ غَثَمَ لَهُ دَفَعَ إِلَيْهِ مِنْ مَّالِهِ دَفَعَةٌ “ ہوا۔تو اس کو بھی اسی طرح لگوایا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا طریق تھا کہ بعض الہامات یا فقرات وغیرہ یاد دہانی یا دعا یا یادگار کے لئے مسجد یا مکان کے کسی حصہ میں آویزاں کروا دیتے تھے۔634 بسم الله الرحمن الرحیم۔مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی سابق کلرک محکمہ ریلوے لا ہور نے بواسطه مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ ایک سفر میں لاہور اسٹیشن پر اُترے تو ایک مسجد میں جو ایک چبوترے کی شکل میں تھی۔آرام کے لئے بیٹھ گئے یہ مسجد اس جگہ تھی جہاں اب پلیٹ فارم نمبر ۴ ہے۔پنڈت لیکھرام وہاں آیا۔اور اس نے حضرت صاحب کو جھک کر سلام کیا تو حضور نے اس سے منہ پھیر لیا۔دوسری مرتبہ پھر اس نے اسی طرح کیا۔پھر بھی آپ نے توجہ نہ فرمائی۔اس پر بعض خدام نے عرض کیا کہ حضور! پنڈت لیکھرام سلام کے لئے حاضر ہوا ہے۔آپ نے فرمایا۔ہمارے سید و مولی محمد مصطفی ﷺ کو گالیاں دینے والے کا ہم سے کیا تعلق ہے؟ اسی طرح وہ سلام کا جواب حاصل کرنے میں نا کام چلا گیا۔