سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 604
سیرت المہدی 604 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ اسی واقعہ کا ذکر بروایت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی روایت نمبر ۲۸۱ میں بھی ہو چکا ہے۔635 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی غلام حسین صاحب ڈنگوی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ ایک دفعہ شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم تاجر لاہور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت کی اور دعوت کا اہتمام خاکسار کے سپرد کیا۔پلاؤ نرم پکا۔غفلت باورچیوں کی تھی۔شیخ صاحب کھانا کھلانے کے وقت عذر خواہی کرنے لگے کہ بھائی غلام حسین کی غفلت سے پلاؤ خراب ہو گیا ہے۔آپ نے فرمایا۔کہ گوشت۔چاول۔مصالحہ اور گھی سب کچھ اس میں ہے۔اور میں گلے ہوئے چاولوں کو پسند کرتا ہوں۔یہ آپ کی ذرہ نوازی کی دلیل ہے۔کہ غلطی پر بھی خوشی کا اظہار فرمایا۔ممکن ہے کہ حضور دانے دار پلاؤ کو پسند فرماتے ہوں۔لیکن خاکسار کوملامت سے بچانے کے لئے ایسا فرمایا ہو۔636 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگر وال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے صبح کے قریب جگایا۔اور فرمایا۔کہ مجھے ایک خواب آیا ہے۔میں نے پوچھا کیا خواب ہے۔فرمایا۔میں نے دیکھا ہے کہ میرے تخت پوش کے چاروں طرف نمک پنا ہوا ہے۔میں نے تعبیر پوچھی۔تو کتاب دیکھ کر فرمایا۔کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئے گا۔اس کے بعد میں چار دن یہاں رہا۔میرے سامنے ایک منی آرڈر آیا۔جس میں ہزار سے زائد روپیہ تھا۔مجھے اصل رقم یاد نہیں۔جب مجھے خواب سنائی۔تو ملا وامل اور شرم پت کو بھی بلا کر سُنائی۔جب منی آرڈر آیا۔تو ملا وامل و شرم پت کو بلایا۔اور فرمایا۔کہ لو بھئی یہ منی آرڈر آیا ہے۔جا کر ڈاکخانہ سے لے آؤ۔ہم نے دیکھا تو منی آرڈر بھیجنے والے کا پتہ اس پر درج نہیں تھا۔حضرت صاحب کو بھی پتہ نہیں لگا کہ کس نے بھیجا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ آجکل کے قواعد کے رُو سے رقم ارسال کنندہ کو اپنا پتہ درج کرنا ضروری ہوتا ہے۔ممکن ہے اس زمانہ میں یہ قاعدہ نہ ہو۔یا مرز دین محمد صاحب کو پتہ نہ لگا ہو۔637 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ