سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 602
سیرت المہدی 602 حصہ سوم مطالعہ کرنے کو بیٹھ گیا۔کتاب کو کھولتے ہی اس شعر پر نگاہ جائگی۔کر بلائے است سیر ہر آنم صدحسین است در گریبانم یہ شعر پڑھ کر سوچ رہا تھا۔کہ مہمانخانہ کے دروازہ پر نظر پڑی۔دیکھا کہ مولانا سید عبداللطیف صاحب تشریف لا رہے ہیں۔میں اُٹھ کر ان سے ملاقات کرنے کو گیا۔پھر جب سید صاحب مذکور کابل میں پہنچ کر شہید ہو گئے۔تو اس شعر کے معنے خاکسار پر ظاہر ہوئے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ مولوی عبید اللہ بسمل جو ابھی چند دن ہوئے قریباً نوے سال کی عمر میں فوت ہوئے ہیں فارسی اور تاریخ کے نہایت کامل استاد تھے۔حتی کہ میں نے مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل سے سُنا ہے کہ ان کے متعلق ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ مولوی صاحب فارسی کے اتنے بڑے عالم ہیں کہ مجھے رشک ہوتا کہ کاش مجھے یہ علم عربی میں حاصل ہوتا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی صاحب مرحوم شاعر بھی تھے اور بہت زندہ دل تھے۔شروع شروع میں مدرسہ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں مدرس بھی رہ چکے ہیں۔چنانچہ میں بھی ان سے پڑھا ہوں۔اُردو میں بھی نہایت ماہر تھے۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے آمین۔محرره ۱۹ اکتوبر ۱۹۳۸ء۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی صاحب کی خواب میں جو یہ ذکر ہے کہ خواب میں امام حسین نے یہ کہا کہ مرزا صاحب سے کہدو کہ میں آگیا ہوں اس میں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔جو قریب کے زمانہ میں ہونے والی تھی۔واللہ اعلم 632 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر غلام احمد صاحب۔آئی۔ایم۔ایس نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔کہ میرے والد شیخ نیاز محمد صاحب انسپکٹر پولیس سندھ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز کے بعد اندر تشریف لے جارہے تھے تو میں نے ایک کپڑ ا حضرت صاحب کو دیا۔جو کہ حضرت ام المؤمنین کے لئے تھا۔حضور نے میری طرف چنداں توجہ نہ کی اور نہ ہی نظر اُٹھا کر دیکھا کہ کس نے دیا ہے۔اس کے بعد ایک دن میری والدہ صاحبہ نے مجھ سے ذکر کیا۔کہ ایک دفعہ حضرت اُم المؤمنين نے ان سے فرمایا کہ ایک دن حضرت صاحب ہنستے ہوئے اندر تشریف لائے اور ایک کپڑا