سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 601
سیرت المہدی 601 حصہ سوم مسجد مبارک میں جا کر حضور کی تشریف آوری کا انتظار کرنے لگا۔اتنے میں حضرت حکیم الامت (یعنی حضرت مولوی نورالدین صاحب۔خاکسار مؤلف ) تشریف لے آئے۔ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی۔کہ دروازہ کھلا اور آفتاب رسالت بیت الشرف سے برآمد ہوا۔خاکسار درود پڑھتا ہوا آگے ہوا۔اور دست بوس حاصل کیا۔دستر خوان بچھا اور حقائق و معارف کا دریا بہنے لگا۔عصمت انبیاء کا مسئلہ حضور نے اس وضاحت سے حل فرمایا۔کہ میرا دل وجد کرنے لگ گیا۔یہ عجالہ اس کی تفصیل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ بعض علماء کا مذہب ہے کہ انبیاء محفوظ ہوتے ہیں اور بعض کا خیال ہے کہ قبل از بعثت محفوظ ہوتے ہیں۔اور بعد از بعثت معصوم۔اور بعض کے نزدیک صغائر سے محفوظ اور کبائر سے معصوم ہوتے ہیں اور بعض کے نزدیک محض تبلیغ وحی میں معصوم اور دیگر کبائر وصغائر میں محفوظ ہوتے ہیں۔حضور علیہ السلام کی تقریر اس شرح بسط کے ساتھ تھی۔کہ جس کے اعادہ کے لئے وقت کی ضرورت ہے۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ اُسکی پوری تفصیل خاکسار شاید ادا بھی نہ کر سکے۔تناول طعام کے بعد حضرت حرم سرائے میں تشریف لے گئے۔مسجد سے اکثر اصحاب چلے گئے۔اور ایک گھنٹہ کے بعد حضرت پھر برآمد ہوئے۔اور مولوی عبدالکریم صاحب کو یاد فرمایا۔مولوی صاحب کے حاضر ہونے کے بعد ارشاد فرمایا۔اس وقت یہ شعر الہام ہوا ہے۔چودور خسر وی آغاز کردند مسلمان را مسلمان باز کردند و خاکسار نے عرض کیا۔دور نخسر وی ایک صدی کے بعد شروع ہوگا۔جیسا کی حضرت عیسے علیہ قسطنطین اعظم کے عہد سے شروع ہوا تھا۔حضرت نے فرمایا۔نہیں جلد شروع ہوگا۔پھر میں السلام کے بعد نے عرض کیا۔مسلماں را مسلماں باز کردند کے معنے شاید یہ ہیں کہ غیر احمدیوں کو احمدی بنایا جائے گا۔فرمایا اس کے معنے اور ہیں، وقت پر دیکھ لو گے۔پھر جب ملکانہ میں مسلمانوں کے مرتد گروہ خلیفہ ثانی کے عہد میں دوبارہ مسلمان ہوئے۔تو یاد آگیا کہ مصرع الہامی کے معنے در حقیقت مسلمانوں کو جو ارتداد کی بلا میں مبتلاء ہو چکے ہیں۔پھر مسلمان کرنے کے ہیں۔خدا کا شکر ہے کہ میں نے اس پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھ لیا۔دوسرے روز مہمانخانہ میں خاکسار ایک نو وارد مہمان سے ملا۔اس کے پاس فارسی در نشین کا