سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 600
سیرت المہدی 600 حصہ سوم موقعہ ہومگر پھر بھی ذبح نہ کیا جائے۔630 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے علم میں بذریعہ ریل حسب ذیل جگہوں کا سفر کیا ہے۔گورداسپور۔پٹھانکوٹ۔امرتسر۔لاہور۔سیالکوٹ۔جموں۔جہلم۔دہلی۔لدھیانہ۔جالندھر۔انبالہ چھاؤنی۔فیروز پور چھاؤنی۔پٹیالہ۔ملتان اور علی گڑھ۔اور حضرت صاحب نے ہوشیار پور کا مشہورسفر بذریعہ سڑک کیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب یکہ پر ڈلہوزی بھی تشریف لے گئے تھے۔نیز سٹور بھی گئے تھے مگر وہ پٹیالہ کے سفر کا حصہ ہی تھا۔631 بسم اللہ الرحمن الرحیم حکیم عبید اللہ صاحب بسمل مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ خاکسار ( یعنی بسمل صاحب) کا عقیدہ معتزلہ کے قریب قریب تھا۔گو والدین حنفی مذہب اور نقشبندی مشرب تھے۔لیکن بعض اساتذہ کی تلقین سے میرا عقیدہ رفض اور اعتزال کی طرف مائل ہو گیا تھا۔اور ارجح المطالب “ کے چھاپنے پر مجھ کو ناز تھا۔کہ یکا یک میرے مہربان دوست مفتی محمد صادق صاحب سے مجھ کو حضرت مسیح موعود کی تصنیف کتاب ” سر الخلافہ عاریتاً ہاتھ آئی۔اس کتاب کے مطالعہ نے ایک ہی دن میں میرے عقیدے میں انقلاب عظیم پیدا کر دیا۔رات کے گیارہ بج چکے تھے۔کتاب دیکھ رہا تھا۔نیند کا غلبہ ہو گیا۔اور سو گیا۔خواب میں جناب امام حسین کی زیارت ہوئی کہ ایک بلند مقام پر استادہ ہیں اور ایک صاحب سے فرمارہے ہیں کہ مرزا صاحب کو جا کر خبر کر دو کہ میں آگیا ہوں۔صبح اُٹھ کر میں نے قادیان کا تہیہ کر لیا اور لاہور سے حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسے کے ساتھ قادیان آیا۔رات بٹالہ میں گزاری۔صبح جب دارالامان پہنچا تو مولوی سید عبداللطیف صاحب شہید سے مہمان خانہ میں ملاقات ہوئی۔ان کا چہرہ دیکھتے ہی وہ رات کے خواب کی شبیہ آنکھوں میں آگئی۔مگر اللہ رے غفلت ! ایک خیال تھا کہ فوراً دل سے اتر گیا۔حضرت اقدس علیہ السلام ہنوز برآمد نہ ہوئے تھے۔کہ