سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 53 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 53

سیرت المہدی 53 حصہ اوّل میں دیر ہو جاتی تھی تو آپ کئی کئی منٹ ان کے دروازہ کے سامنے چوک میں کھڑے رہتے تھے اور پھر ان کو ساتھ لے کر جاتے تھے اور سیر میں حضور کی اپنے خدام کے ساتھ گفتگو ہوا کرتی تھی اور حضور تقریر فرماتے جاتے تھے اور اخبار والے اپنے طور پر نوٹ کرتے جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود عموماً سیر کے لئے بسراواں کے راستہ یا بوٹر کے راستہ پر جایا کرتے تھے۔بعض اوقات اپنے باغ کی طرف بھی چلے جاتے تھے اور شہتوت بیدانہ وغیرہ تڑوا کر خدام کے سامنے رکھوا دیتے تھے۔اور خود بھی کھاتے تھے۔سیر میں جب ایسا ہوتا کہ کسی شخص کا قدم بے احتیاطی سے حضور کے عصا پر پڑ جاتا اور وہ آپ کے ہاتھ سے گر جاتا تو حضور کبھی منہ موڑ کر نہیں دیکھتے تھے کہ کس سے گرا ہے اور بعض اوقات جب جلسوں وغیرہ کے موقعہ پر سیر میں کثرت کے ساتھ لوگ حضور کے ساتھ ہو جاتے تھے تو بعض خدام خود بخود ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر حضور کے تین طرف ایک چکر سا بنا لیتے تھے تا کہ حضور کو تکلیف نہ ہو۔مگر آخری جلسہ میں جو حضور کی زندگی میں ہوا جب حضور بوٹر (شمال) کی طرف سیر کے لئے نکلے تو اس کثرت کے ساتھ لوگ حضور کے ساتھ ہو گئے کہ چلنا مشکل ہو گیا لہذا حضور تھوڑی دور جا کر واپس آگئے۔خاکسار کو یاد ہے کہ حضور ایک دفعہ بسر اواں (مشرق ) کے راستہ پر سیر کر کے واپس تشریف لا رہے تھے کہ راستہ میں قادیان سے جاتے ہوئے مرزا نظام الدین ملے جو حضور کے چچا زاد بھائی تھے مگر سخت مخالف تھے۔وہ اس وقت گھوڑے پر سوار تھے حضور کو آتا دیکھ کر وہ گھوڑے سے اتر آئے اور راستہ سے ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہو گئے۔جب آپ پاس سے گذرے تو انہوں نے ادب کے ساتھ جھک کر سلام کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضور کو جب کوئی شخص ہاتھ اُٹھا کر پاس سے گذرتا ہوا سلام کرتا تھا تو حضور بھی اس کے جواب میں ہاتھ اٹھاتے تھے۔72 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درمیانہ قد تھا۔رنگ گند میں تھا چہرہ بھاری تھا ، بال سیدھے اور ملائم تھے۔ہاتھ پاؤں بھرے بھرے تھے۔آخری عمر میں بدن کچھ بھاری ہو گیا تھا۔آپ کے رنگ ڈھنگ اور خط و خال میں ایک خدا داد رعب تھا مگر آپ سے ملنے والوں کے