سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 54 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 54

سیرت المہدی 54 حصہ اوّل دل آپ کے متعلق محبت سے بھر جاتے تھے اور کوئی مخفی طاقت لوگوں کو آپ کی طرف کھینچتی تھی۔سینکڑوں لوگ مخالفت کے جذبات لے کر آئے اور آپ کا چہرہ دیکھتے ہی رام ہو گئے۔اور کوئی دلیل نہیں پوچھی۔رعب کا یہ حال تھا کہ کئی شقی بدا رادوں کے ساتھ آپ کے سامنے آتے تھے مگر آپ کے سامنے آکر دم مارنے کی طاقت نہ ملتی تھی۔73 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مردان کا کوئی آدمی میاں محمد یوسف صاحب مردانی کے ساتھ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول کے علاج کے واسطے یہاں قادیان آیا۔یہ شخص سلسلہ کا سخت دشمن تھا اور بصد مشکل قادیان آنے پر رضا مند ہوا تھا مگر اس نے میاں محمد یوسف صاحب سے یہ شرط کر لی تھی کہ قادیان میں مجھے احمدیوں کے محلہ سے باہر کوئی مکان لے دینا اور میں کبھی اس محلہ میں داخل نہیں ہوں گا۔خیر وہ آیا اور احمدی محلہ سے باہر ٹھہرا اور حضرت مولوی صاحب کا علاج ہوتا رہا۔جب کچھ دنوں کے بعد اسے کچھ افاقہ ہوا تو وہ واپس جانے لگا۔میاں محمد یوسف صاحب نے اس سے کہا کہ تم قادیان آئے اور اب جاتے ہو ہماری مسجد تو دیکھتے جاؤ۔اس نے انکار کیا، میاں صاحب نے اصرار سے اسے منایا تو اس نے اس شرط پر مانا کہ ایسے وقت میں مجھے وہاں لے جاؤ کہ وہاں کوئی احمدی نہ ہو اور نہ مرزا صاحب ہوں۔چنانچہ میاں محمد یوسف صاحب ایسا وقت دیکھ کر اسے مسجد مبارک میں لائے مگر قدرت خدا کہ ادھر اس نے مسجد میں قدم رکھا اور اُدھر حضرت مسیح موعود کے مکان کی کھڑکی کھلی اور حضور کسی کام کے لئے مسجد میں تشریف لے آئے۔اس شخص کی نظر حضور کی طرف اُٹھی اور وہ بیتاب ہو کر حضور کے سامنے آ گرا اور اسی وقت بیعت کر لی۔74 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں فخر الدین صاحب ملتانی نے کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ایک دفعہ میرے والد یہاں آئے اور وہ سخت مخالف اور بد گو تھے اور یہاں آ کر بھی بڑی تیزی کی باتیں کرتے رہے اور وہ جب ملتان میں تھے تو کہتے تھے کہ میں اگر کبھی مرزا سے ملاتو ( نعوذ باللہ ) اسکے منہ پر بھی لعنتیں ڈالوں گا یعنی سامنے بھی یہی کہوں گا جو یہاں کہتا ہوں۔خیر میں انہیں حضرت صاحب کے