سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 52 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 52

سیرت المہدی 52 حصہ اوّل حضرت صاحب سے کہتے کہ حضور بہت گرمی ہے تو دوسرے دن بارش ہو جاتی تھی۔نیز مولوی سید سرور شاہ صاحب نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں فصلوں کے متعلق بھی کبھی شکایت نہیں ہوئی۔خاکسار نے گھر آگر والدہ صاحبہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت صاحب جب فرماتے تھے کہ آج بہت گرمی ہے تو عموماً اسی دن یا دوسرے دن بارش ہو جاتی تھی۔اور آپ کے بعد تو مہینوں آگ برستی ہے اور بارش نہیں ہوتی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کے زمانہ میں قادیان میں کبھی نماز استقانہیں پڑھی گئی اور آپ کے بعد کئی دفعہ پڑھی گئی ہے۔اس روایت کے متعلق یہ بات قابل نوٹ ہے کہ میرا یہ خیال کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کبھی استقا کی نماز نہیں پڑھی گئی۔درست نہیں نکلا۔دیکھو حصہ دوم روایت نمبر ۴۱۵ مگر یہ خیال کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قادیان میں بالعموم زیادہ دنوں تک مسلسل شدت کی گرمی نہیں پڑتی تھی۔بہر حال درست ہے۔) 71 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ ایک عام عادت تھی کہ صبح کے وقت باہر سیر کو تشریف لے جایا کرتے تھے۔اور خدام آپ کے ساتھ ہوتے تھے اور ایک ایک میل دو دو میل چلے جاتے تھے۔اور آپ کی عادت تھی کہ بہت تیز چلتے تھے مگر بایں ہمہ آپ کی رفتار میں پورا پورا وقار ہوتا تھا۔حضور سیر پر جاتے ہوئے حضرت مولوی صاحب ( خلیفہ اول) کو بھی ساتھ جانے کے لئے بلالیا کرتے تھے۔لیکن چونکہ مولوی صاحب بہت آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر چلتے تھے اس لئے تھوڑی دور چل کر حضرت صاحب سے پیچھے رہ جاتے تھے۔جب حضور کو پتہ لگتا تھا تو مولوی صاحب کے انتظار کے لئے تھوڑی دیر سڑک پر ٹھہر جاتے تھے مگر مولوی صاحب پھر تھوڑی دور چل کر آپ سے پیچھے رہ جاتے تھے اور دو چار آدمی مولوی صاحب کے ساتھ ساتھ ہو جاتے تھے اور میں نے دیکھا ہے کہ حضرت صاحب سیر پر جاتے وقت نواب محمد علی خان صاحب کو بھی ساتھ لے جایا کرتے تھے اور کئی دفعہ آپ اپنے گھر سے باہر نکل کر چوک میں اپنے خدام کے ساتھ نواب صاحب کا انتظار کیا کرتے تھے اور بعض اوقات نواب صاحب کو آنے