سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 582
سیرت المہدی 582 حصہ سوم ہوئی ہے۔کہ مسیح کا نزول جسمانی ہو گا ور اس روز عجب تماشہ ہوگا۔جیسا کہ غبارہ کاغذی جو آگ سے بھرا ہوا ہو۔بلندی سے نیچے کی طرف اترتا ہوا دکھائی دیوے۔ایسا ہی ان کے خیال میں مسیح کا نزول ہوگا۔اور بڑی شوکت سے نزول ہوگا۔اور ہر طرف سے یہ آتا ہے وہ آتا ہے سُنا جاویگا۔لیکن یہ خدا کی عادت نہیں۔اگر ایسا عام نظارہ قدرت کا دکھلایا جاوے تو ایمان بالغیب نہیں رہتا۔وہ آدمی سخت خطا پر ہیں۔جنہوں نے ایسا سمجھا ہوا ہے کہ اب تک عیسے علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ہرگز ایسا نہیں ہے۔قرآن بار بار مسیح کی وفات کا ذکر کرتا ہے۔اور حدیث معراج نبوی کی جو صحیح بخاری میں پانچ جگہ موجود ہے اس کو مردوں میں بتاتی ہے۔پس وہ کس طرح سے زندہ ہے۔لہذا اعتقاد حیات مسیح کا رکھنا قرآن اور حدیث کے برخلاف چلنا ہے اور نیز آیت کریمہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ (المائدة: ۱۱۸) سے بصراحت یہ بات معلوم ہوتی ہے۔کہ نصاری نے اپنے مذہب کو عیسی علیہ السلام کے مرنے کے بعد خراب کیا ہے نہ کہ ان کی زندگی میں۔بالفرض اگر عیسے علیہ السلام اب تک زندہ ہیں تو ہمیں لازم ہے کہ ہم اس بات کا بھی اقرار کریں کہ اس وقت تک نصاری نے اپنے مذہب کو خراب نہیں کیا۔اور بالکل صواب پر ہیں۔ایسا خیال کفر صریح ہے۔پس جو کوئی قرآن کی آیتوں پر ایمان رکھتا ہے اُسے ضروری ہے کہ وہ مسیح کی وفات پر بھی ایمان لائے۔اور یہ بیان ہمارے ان دلائل میں سے بہت تھوڑا سا حصہ ہے۔جن کو ہم نے اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔جسے تفصیل سے دیکھنا منظور ہو وہ ہماری کتابوں میں تلاش کرے۔الْقِصَّه ضرور تھا۔کہ آخر زمانہ میں اس امت سے ایک ایسا شخص نکلے کہ جس کا آنا حضرت عیسے علیہ السلام کے آنے کے ساتھ مشابہ ہو اور حدیث کسر صلیب جو صیح بخاری میں موجود ہے بلند آواز سے کہہ رہی ہے کہ ایسے شخص کا آنا نصاریٰ کے غلبہ کے وقت ہو گا۔اور ہر دانشمند جانتا ہے کہ ہمارے زمانہ میں نصاری کا غلبہ رُوئے زمین پر ایسا ہے کہ اس کی نظیر پہلے زمانوں میں نہیں پائی جاتی۔اور فریب علمائے نصاری اور ان کی کارستانی ہر ایک طرح کے مکر و فریب میں یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ یقینا کہہ سکتے ہیں کہ دقبال معہود یہی خراب کرنے والے اور تحریف کرنے والے کتب مقدسہ کے ہیں۔جنہوں نے قریب دو