سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 583
سیرت المہدی 583 حصہ سوم ہزار کے انجیل اور توریت کے ترجمے ہر زبان میں بعد تحریف شائع کئے اور آسمانی کتابوں میں بہت خیانتیں کیں اور چاہتے ہیں کہ ایک انسان کو خدا بنایا جائے۔اور اس کی پرستش کی جائے اب انصاف اور غور سے دیکھنا چاہئے کہ کیا اُن سے بڑا د قبال کوئی گزرا ہے کہ تا آئندہ بھی اس کی امید رکھی جاوے۔ابتدائے بنی آدم سے اس وقت تک مکر وفریب ہر قسم کا انہوں نے شائع کیا ہے جس کی نظیر نہیں۔پس اس کے بعد وہ کونسا نشان ہماری آنکھوں کے سامنے ہے جس سے یقین یا شک تک پیدا ہو سکے کہ کوئی دوسرا د قال ان سے بڑا کسی غار میں چھپا ہوا ہے۔ساتھ اس کے چاند اور سورج کو گرہن لگنا جو اس ہمارے ملک میں ہوا ہے۔یہ نشان ظہور اُس مہدی کا ہے جو کتاب دار قطنی میں امام باقر کی حدیث سے موسوم ہے۔نصاری کا فتنہ حد سے بڑھ گیا ہے اور ان کی گندی گالیاں اور سخت تو ہین ہمارے رسول کی نسبت علماء نصاری کی زبان و قلم سے اس قدر نکلیں جس سے آسمان میں شور پڑ گیا۔حتی کہ ایک مسکین اتمام حجت کے واسطے مامور کیا گیا۔یہ خدا کی عادت ہے کہ جس قسم کا فسادزمین پر غالب ہوتا ہے اُسی کے مناسب حال مجد دزمین پر پیدا ہوتا ہے۔پس جس کی آنکھ ہے وہ دیکھے کہ اس زمانہ میں آتش فساد کس قسم کی بھڑکی ہے اور کونسی قوم ہے جس نے تبر ہاتھ میں لے کر اسلام پر حملہ کیا ہے۔کن کو اسلام کے واسطے غیرت ہے وہ فکر کریں۔کہ آیا یہ بات صحیح ہے یا غلط۔اور آیا یہ ضروری نہ تھا کہ تیرھویں صدی کے اختتام پر جس میں کہ فتنوں کی بنیاد رکھی گئی۔چودھویں صدی کے سر پر رحمت الہی تجدید دین کے لئے متوجہ ہوئی ؟ اور اس بات پر تعجب نہیں کرنا چاہئے۔کہ کیوں اس عاجز کو عیسے علیہ السلام کے نام پر بھیجا گیا ہے۔کیونکہ فتنہ کی صورت ایسی ہی روحانیت کو چاہتی تھی۔جبکہ مجھے قوم مسیح کے لئے حکم دیا گیا ہے تو مصلحتاً میرا نام ابنِ مریم رکھا گیا۔آسمان سے نشان ظاہر ہوتے ہیں۔اور زمین پکارتی ہے کہ وہ وقت آگیا۔میری تصدیق کے لئے یہ دو گواہ موجود ہیں ( خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ یہ عبارت حضرت مسیح موعود کے دو فارسی شعروں کا ترجمہ ہے ) اسی واسطے خداوند کریم نے مجھ کو مخاطب کر کے فرمایا۔کہ تو خوش ہو کہ تیرا وقت نزدیک آ گیا۔اور قدم محمد یاں بلند مینار پر پہنچ گیا ہے یہ کام خداوند حکیم وعلیم کا ہے اور انسان کی نظر میں عجیب۔( یہ حضرت مسیح موعود کے ایک