سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 581
سیرت المہدی 581 حصہ سوم بنے ) خدا کی طرف سے سلطنت اور بادشاہت حاصل کی اور حکمت اور مصلحت خداوندی ان کو اپنی ذات کا قائم مقام اور ان کے احکام کو اپنے قضاء قد ر کا مظہر بناتی ہے اور کئی ہزار جان اور مال و آبرو کی ان کے سپرد کرتی ہے۔ضرورۃ یہ لوگ شفقت اور رحم اور چارہ سازی دردمنداں اور غریبوں و بیکسوں کے حال پر نگران اور حمایت اسلام و مسلماناں میں خدا کا سایہ ہوتے ہیں۔اس فقیر کا یہ حال ہے کہ وہ خدا جو بر وقت بہت مفاسد اور گمراہی کے مصلحت عام کے واسطے اپنے بندوں میں سے کسی بندہ کو اپنا خاص بنا لیتا ہے۔تا اس کے ذریعہ گمراہوں کو ہدایت ہو۔اور اندھوں کو روشنی اور غافلوں کو تو فیق عمل کی دی جائے اور اس کے ذریعہ دین اور تعلیم معارف و دلائل کی تازہ ہو۔اُسی خدائے کریم و رحیم نے اس زمانہ کو زمانہ پرفتن اور طوفانِ ضلالت و ارتداد کو دیکھ کر اس ناچیز کو چودھویں صدی میں اصلاح خلق اور اتمام حجت کے واسطے مامور کیا۔چونکہ اس زمانہ میں فتنہ علمائے نصاریٰ کا تھا۔اور مدار کا ر صلیب پرستی کے توڑنے پر تھا۔اس واسطے یہ بندہ درگاہ الہی مسیح علیہ السلام کے قدم پر بھیجا گیا۔تاوہ پیشگوئی بطور بروز پوری ہو۔کہ جو عوام میں مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی بابت مشہور ہے۔قرآن شریف صاف ہدایت فرماتا ہے۔کہ دُنیا سے جو کوئی گیا وہ گیا۔پھر آنا اس کا دُنیا میں ممکن نہیں۔البتہ ارواح گذشتہ گان بطور بروز دنیا میں آتی ہیں۔یعنی ایک شخص ان کی طبیعت کے موافق پیدا کیا جاتا ہے۔اس واسطے خدا کے ہاں اُس کا ظہور اُسی کا ظہور سمجھا جاتا ہے۔دوبارہ آنے کا یہی طریق ہے۔کہ صوفیوں کی اصطلاح میں اس کو بروز کہتے ہیں۔ورنہ اگر مُردوں کا دو بار آنا روا ہوتا تو ہم کو بہ نسبت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے حضرت سید الوری خاتم الانبیاء صلے اللہ علیہ وسلم کی زیادہ ضرورت تھی۔لیکن آنحضرت نے ہر گز فرمایا نہیں کہ میں دوبارہ دُنیا میں آؤں گا۔ہاں یہ فرمایا۔کہ ایک شخص ایسا آئیگا کہ وہ میرا ہم نام ہوگا۔یعنی میری طبیعت اور خُو پر آئے گا۔پس مسیح علیہ السلام کا آنا بھی ایسا ہی ہے نہ ویسا کہ اس کا نمونہ دنیا کے اول اور آخر میں موجود نہیں۔اسی واسطے امام مالک اور امام ابن حزم اور امام بخاری اور دوسرے بڑے بڑے اماموں کا یہی مذہب تھا۔اور بہت بزرگانِ دین اسی مذہب پر گئے ہیں۔البتہ عوام کہ جو بہ پسند ہوتے ہیں اور اس نکتہ معرفت سے بے خبر ہیں۔ان کے خیال میں یہ بات بیٹھی