سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 579
سیرت المہدی 579 ہے۔مگر وہ آئے گا ضرور۔کیونکہ قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا۔حصہ سوم ہاں جہاں تک میں سمجھتا ہوں وہ یوں ہوگا کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ خود موجودہ مغربی تہذیب میں تباہی کا بیچ پیدا کر دے گا۔اور موجودہ حکومتوں کو ایک دوسرے کے خلاف اٹھنے کے لئے اُبھارے گا۔جس سے وہ اور ان کی تہذیب اپنی ہی پیدا کی ہوئی آگ میں بھسم ہو جائیں گے۔اور دوسری طرف خدا احمدیت کے پودے کو درجہ بدرجہ مضبوط کرتا جائے گا۔تا کہ جب پرانے آثار مٹیں۔تو احمدیت کی عمارت اس کی جگہ لینے کے لئے تیار ہو۔مگر یہ درمیانی عرصہ احمدیت کے لئے پھولوں کی سیج نہیں ہے۔بلکہ کانٹوں اور پتھروں کی سلوں کا رستہ ہے۔اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے جنگلوں اور پُر خطر وادیوں اور خون کی ندیوں میں سے ہوکر گزرنا پڑے گا۔مگر انجام بہر حال وہی ہے کہ قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا “۔616 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔کہ موت انسان کی ترقی کے لئے لا بدی ہے اور انسان کا اس دُنیا سے رخصت ہونا ایسا ہے جیسے کہ لڑکی کا ماں باپ سے جدا ہو کر خاوند کے گھر جانا۔جس طرح لڑکی کا خدا داد جو ہر اور کمال ( یعنی اولاد پیدا کرنا) بغیر ماں باپ کے ہاں سے چلے جانے کے ظاہر نہیں ہوسکتا۔اسی طرح انسان کا حقیقی کمال اور جو ہر بھی اس وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتا۔جب تک وہ موت کے راستہ سے اس دنیا سے جدا نہ ہو۔617 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر غلام احمد صاحب آئی۔ایم۔ایس نے مجھ سے بیان کیا کہ میرے دادا میاں محمد بخش صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس بٹالہ کے کاغذات میں سے مجھے ایک مسودہ ان کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا ملا ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک چٹھی امیر کا بل کے نام ہے جو غالباً فارسی زبان میں تھی۔جس کا ترجمہ اردو میں میرے دادا صاحب نے کیا یا کرایا تھا اور یہ ترجمہ شاید گورنمنٹ ریکارڈ کے لئے تھا۔حضرت مسیح موعود کا خط یہ ہے:۔