سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 580 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 580

سیرت المہدی 580 حصہ سوم بسم الله الرحمن الرحيم نحمد و نصلی علی رسوله الكريم (ترجمہ) ہم خدا کا شکر کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔عاجز خدا کی پناہ لینے والے غلام احمد کی طرف سے (خدا اس کی کمزوریوں کو معاف فرمائے اور اس کی تائید کرے) بحضور امیر ظلّ سُبحانی۔مظهر تفضّلاتِ یزدانی - شاہ ممالک کابل ( اللہ اس کو سلامت رکھے ) بعد دعوات سلام و رحمت و برکت کے باعث اس خط لکھنے کا وہ فطرت انسانی کا خاصہ ہے کہ جب کسی چشمہ شیریں کی خبر سنتا ہے۔کہ اس میں انسان کے لئے بہت فوائد ہیں۔تو اس کی طرف رغبت اور محبت پیدا ہوتی ہے۔پھر وہ رغبت دل سے نکل کر اعضاء پر اثر کرتی ہے اور انسان چاہتا ہے کہ جہاں تک ہو سکے اس چشمہ کی طرف دوڑے اور اس کو دیکھے۔اور اس کے میٹھے پانی سے فائدہ اٹھائے اور سیراب ہو جائے اسی طرح جب اخلاق فاضلہ اور عادات کریمانہ اور ہمدردی اسلام و مسلمین اس بادشاہ نیک خصال کی اطلاع ہندوستان میں جابجا ہوئی اور ذکر پاک پھل اس شجرہ مبارک دولت اور سلطنت کا ہر شہر وملک میں مشہور ہوا اور دیکھا گیا کہ ہر شریف اور نجیب آدمی اس بادشاہ کی مدح میں تر زبان ہے تو مجھے کہ اس قحط الرجال کے زمانہ میں بسبب کمی مردمانِ اولوالعزم کے غم اور اندوہ میں زندگی بسر کرتا ہوں۔اس قد رسرور اور فرحت حاصل ہوئی کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے اس کیفیت کو بیان کر سکوں۔خداوند کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے ایک ایسے مبارک وجود سے بے شمار وجودوں کو بہت اقسام کی تباہی سے بچا رکھا ہے۔اصل میں وہ آدمی بہت خوش قسمت ہیں کہ جن میں ایسا بادشاہ جہاں پناہ نیک نہاد اور منصف موجود ہے اور وہ لوگ بہت خوش قسمت ہیں کہ جنہوں نے بعد عرصہ دراز کے اس نعمت غیر مترقبہ کو حاصل کیا۔خداوند کریم کی بہت نعمتیں ہیں۔کہ کوئی ان کو شمار نہیں کر سکتا مگر بزرگ تر نعمتوں میں سے وجود دو انسانوں کا ہے۔اول وہ جو راستی اور راستبازی کی قوت سے پُر ہوئے اور طاقت رُوحانی حاصل کی۔اور پھر وہ گرفتاران ظلمت اور غفلت کو نور معرفت کی طرف کھینچتے ہیں۔اور خالی اندرونوں کو متاع معارف کے دیتے ہیں۔اور اپنے نقدس کے سبب سے کمزوریوں کو اس دنیا سے بسلامتی ایمان لے جاتے ہیں۔دوسرا وہ آدمی ہے۔جنہوں نے نہ اتفاق اور بخت سے بلکہ بمقتضاء جو ہر قابل کے ( یعنی ان میں مادہ بادشاہی کا خدا نے دیا ہوا تھا کہ ضرور بادشاہ