سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 564
سیرت المہدی 564 حصہ سوم 592 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ ایک دفعہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مسئلہ دریافت کیا۔کہ حضور فاتحہ خلف امام اور رفع یدین اور آمین کے متعلق کیا حکم ہے۔آپ نے فرمایا۔کہ یہ طریق حدیثوں سے ثابت ہے۔اور ضرور کرنا چاہئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ فاتحہ خلف امام والی بات تو حضرت صاحب سے متواتر ثابت ہے مگر رفع یدین اور آمین بالجهر والی بات کے متعلق میں نہیں سمجھتا کہ حضرت صاحب نے ایسا فرمایا ہو کیونکہ اگر حضور ا سے ضروری سمجھتے تو لازم تھا کہ خود بھی اس پر ہمیشہ عمل کرتے۔مگر حضور کا دوامی عمل ثابت نہیں بلکہ حضور کا عام عمل بھی اس کے خلاف تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ جب حافظ صاحب نے حضور سے سوال کیا تو چونکہ سوال میں کئی باتیں تھیں۔حضور نے جواب میں صرف پہلی بات کو مدنظر رکھ کر جواب دیدیا یعنی حضور کے جواب میں صرف فاتحہ خلف امام مقصود ہے۔واللہ اعلم۔ا 593 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہماری عادت تھی کہ جب ہم حضرت صاحب کو قادیان ملنے آتے ، تو ہمیشہ اپنے ساتھ کبھی گئے یا گڑ کی روڑی ضرور لایا کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے فرمایا۔ہمارے لئے سرسوں کا ساگ بھیجنا۔وہ گوشت میں ڈال کر عمدہ پکتا ہے۔ہم نے وہ ساگ فیض اللہ چک سے بھیج دیا۔بعد ازاں ہم نے گاؤں میں یہ بات سنی کہ دہلی میں آپ کی شادی ہو گئی ہے۔اس پر میں اور میرے دوست حافظ نبی بخش صاحب آپ کی ملاقات کے لئے آئے۔تو حضور بہت خوش ہوکر ملے۔میں نے ایک روپیہ نذرانہ پیش کیا۔آپ نے فرمایا۔کہ جب آپ کے لڑکا پیدا ہوگا تو ہم بھی دیں گے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضور نے یہ بات کہ ہم بھی دینگے ، تنبول وغیرہ کے رنگ میں نہیں کہی ہوگی بلکہ یونہی اظہار محبت و شفقت کے طور پر کہی ہوگی۔گو ویسے حضور شادیوں وغیرہ کے موقعہ پر تنبول کے طریق کو بھی نا پسند نہیں فرماتے تھے اور فرماتے تھے نیک نیتی سے ایسا کیا جائے اور اسے لازمی نہ قرار دیا