سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 565 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 565

سیرت المہدی 565 حصہ سوم جاوے تو یہ ایک بروقت امداد کی صورت ہے۔594 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ رمضان کی لیلۃ القدر کی بابت حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے۔کہ اس کی پہچان یہ ہے کہ اس رات کچھ بادل یا ترشح بھی ہوتا ہے۔اور کچھ آثار انوار و برکات سماویہ کے محسوس ہوتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہی علامت حدیثوں میں بھی بیان ہوئی ہے لیکن غالباً یہ منشا نہیں ہے کہ بادل یا ترشح کی شرط بہر صورت لازمی ہے اور میرے خیال میں ایسا بھی ممکن ہے کہ مختلف علاقوں میں ليـلـة الــقــدر مختلف راتوں میں ظاہر ہو اور حق تو یہ ہے کہ لیلۃ القدر کا ماحول پیدا کرنا ایک حد تک انسان کی خود اپنی حالت پر بھی موقوف ہے ایک ہی وقت میں ایک شخص کے لئے لیلة القدر ہوسکتی ہے مگر دوسرے کے لئے نہیں۔والله اعلم۔595 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ بعض اوقات الہام اس طرح بھی ہوتا ہے کہ کلامِ الہی بندہ کی اپنی زبان پر بلند آواز سے ایک دفعہ یا بار بار جاری ہو جاتا ہے اور اس وقت زبان پر بندے کا تصرف نہیں ہوتا۔بلکہ خدا کا تصرف ہوتا ہے اور کبھی الہام اس طرح ہوتا ہے کہ لکھا ہوا فقرہ یا عبارت دکھائی دیتی ہے اور کبھی کلام لفظی طور پر باہر سے آتا ہواسنائی دیتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قرآن شریف سے پتہ لگتا ہے کہ کلام الہی تین موٹی قسموں میں منقسم ہے۔اول وحی۔یعنی خدا کا براہ راست کلام خواہ وہ جلی ہو یا خفی۔دوسرے مِنْ وَرَاءِ حِجاب والی تصویری زبان کا الہام مثلاً خواب یا کشف وغیرہ۔تیسرے فرشتہ کے ذریعہ کلام۔یعنی خدا فرشتہ سے کہے اور فرشتہ آگے پہنچائے اور پھر یہ تینوں قسمیں آگے بہت سی ماتحت اقسام میں منقسم ہیں۔میر صاحب والی روایت میں آخری قسم ، وحی میں داخل ہے اور شاید پہلی قسم بھی ایک رنگ وحی کا رکھتی ہے مگر درمیانی قسم مِن وَرَاءِ حِجاب سے تعلق رکھتی ہے۔واللہ اعلم۔