سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 563 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 563

سیرت المہدی 563 حصہ سوم ہے اور کیا موجودہ صورت میں رضاعت ہوئی بھی ہے یا نہیں۔آخر تحقیقات کر کے اور مسئلہ پر غور کر کے یہ فیصلہ ہوا کہ واقعی یہ ہر دو رضاعی بہن بھائی ہیں اور نکاح فسخ ہو گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جہاں تک مجھے یاد ہے اس وقت حضرت صاحب اس طرف مائل تھے کہ اگر معمولی طور پر کسی وقت تھوڑا سا دودھ پی لیا ہے۔تو یہ ایسی رضاعت نہیں جو باعث حرمت ہو اور حضور کا میلان تھا کہ نکاح قائم رہ جائے مگر حضرت خلیفہ اول کو فقہی احتیاط کی بناء پر انقباض تھا۔اس لئے حضرت صاحب نے فسخ کی اجازت دیدی۔591 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دوست نے مسجد مبارک میں مغرب کے بعد سوال کیا۔کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب کا طعام تمہارے لئے حلال ہے تو عیسائی تو ناپاک چیزیں بھی کھا لیتے ہیں۔پھر ہم ان کا کھانا کس طرح کھا سکتے ہیں۔فرمایا۔اہل کتاب سے دراصل اس جگہ قرآن شریف نے یہودی مراد لئے ہیں جن کے پاس شریعت تھی اور جو اس کے حامل اور عامل تھے اور انہی لوگوں کا ذبیحہ اور کھانا جائز ہے۔کیونکہ وہ بہت شدت سے اپنی شریعت کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔عیسائیوں نے تو سب باتیں شریعت کی اڑا دیں اور شریعت کو لعنت قرار دیدیا۔پس یہاں وہ مراد نہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر میر صاحب کی اس روایت کے ظاہری اور عام معنی لئے جائیں تو اس میں کسی قدر ندرت ہے جو عام خیال کے خلاف ہے اور میرے خیال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تعامل کے بھی خلاف ہے۔جہاں تک میر اعلم ہے حضرت صاحب کو عیسائیوں کی تیار شدہ چیزوں کے کھانے میں پر ہیز نہیں تھا۔بلکہ ہندوؤں تک کی چیزوں میں پر ہیز نہیں تھا۔البتہ اس روایت کا یہ منشاء معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ عیسائیوں نے طریق ذبح کے معاملہ میں شرعی طریق کو چھوڑ دیا ہے اس لئے ان کے اس قسم کے کھانے سے پر ہیز چاہئے۔مگر باقی چیزوں میں حرج نہیں۔ہاں اگر کوئی چیز اپنی ذات میں حرام ہو تو اس کی اور بات ہے۔ایسی چیز تو عیسائی کیا مسلمان کے ہاتھ سے بھی نہیں کھائی جائے گی۔