سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 51
سیرت المہدی 51 حصہ اوّل ۱۸۷۷ء کا بنتا ہے۔اس وقت والدہ صاحبہ کی عمر نو دس سال کی ہوگی اور حضرت صاحب کی عمر غالباً چالیس سال سے اوپر تھی۔(خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت جبکہ کتاب ہذا کی دوسری ایڈیشن زیر تیاری ہے وہ کمرہ جس میں حضرت صاحب ان ایام میں رہتے تھے ایک دوسرے کمرے کے تبادلہ میں ہمارے پاس آ گیا ہے اور یہ وہ چو بارہ ہے جو حضرت والدہ صاحبہ کے موجودہ باورچی خانہ کے صحن کے ساتھ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان سے ملحق ہے۔) 9 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ میری شادی سے پہلے حضرت صاحب کو معلوم ہوا تھا کہ آپ کی دوسری شادی دتی میں ہو گی چنانچہ آپ نے مولوی محمد حسین بٹالوی کے پاس اس کا ذکر کیا تو چونکہ اس وقت اس کے پاس تمام اہل حدیث لڑکیوں کی فہرست رہتی تھی اور میر صاحب بھی اہل حدیث تھے اور اس سے بہت میل ملاقات رکھتے تھے اس لئے اس نے حضرت صاحب کے پاس میر صاحب کا نام لیا آپ نے میر صاحب کو لکھا۔شروع میں میر صاحب نے اس تجویز کو بوجہ تفاوت عمر ناپسند کیا مگر آخر رضامند ہو گئے اور پھر حضرت صاحب مجھے بیاہنے دتی گئے۔آپ کے ساتھ شیخ حامد علی اور لالہ ملا وامل بھی تھے۔نکاح مولوی نذیرحسین نے پڑھا تھا۔یہ ۲۷ محرم ۱۳۰۲ھ بروز پیر کی بات ہے۔اس وقت میری عمر اٹھارہ سال کی تھی۔حضرت صاحب نے نکاح کے بعد مولوی نذیر حسین کو پانچ روپے اور ایک مصلی نذر دیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت حضرت مسیح موعود کی عمر پچاس سال کے قریب ہوگی۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمہارے تایا میرے نکاح سے ڈیڑھ دو سال پہلے فوت ہو چکے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ تایا صاحب ۱۸۸۳ء میں فوت ہوئے تھے جو کہ تصنیف براہین کا آخری زمانہ تھا اور والدہ صاحبہ کی شادی نومبر ۱۸۸۴ء میں ہوئی تھی اور مجھے والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ پہلے شادی کا دن اتوار مقرر ہوا تھا مگر حضرت صاحب نے کہہ کر پیر کر وا دیا تھا۔70 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ حضرت مسیح موعود کا زمانہ عجیب تھا قادیان میں دو دن گرمی نہیں پڑتی تھی کہ تیسرے دن بارش ہو جاتی تھی۔جب گرمی پڑتی اور ہم