سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 50 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 50

سیرت المہدی 50 حصہ اوّل 67 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے ہماری پھوپھی صاحبہ یعنی مرزا امام الدین کی ہمشیرہ نے جو ہماری تائی کی چھوٹی بہن ہیں اور مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی بیوہ ہیں کہ ایک دفعہ ہمارے والد اور تایا کو سکھوں نے بسر اواں کے قلعہ میں بند کر دیا تھا اور قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ غالباً سکھوں کے آخری عہد کی بات ہے جبکہ راجہ رنجیت سنگھ کے بعد ملک میں پھر بدامنی پھیل گئی تھی۔اس وقت سنا ہے کہ ہمارے دادا اور ان کے بھائی مرزا غلام محی الدین صاحب کو سکھوں نے قلعہ میں بند کر دیا تھا اور سننے میں آیا ہے کہ جب مرزا غلام حیدر ان کے چھوٹے بھائی کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے لاہور سے کمک لا کر ان کو چھڑایا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔بسر اواں قادیان سے قریباً اڑھائی میل مشرق کی طرف ایک گاؤں ہے اس زمانہ میں وہاں ایک خام قلعہ ہوتا تھا جواب مسمار ہو چکا ہے مگر اس کے آثار باقی ہیں۔68 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب میں چھوٹی لڑکی تھی تو میر صاحب ( یعنی خاکسار کے نانا جان ) کی تبدیلی ایک دفعہ یہاں قادیان بھی ہوئی تھی اور ہم یہاں چھ سات ماہ ٹھہرے تھے پھر یہاں سے دوسری جگہ میر صاحب کی تبدیلی ہوئی تو وہ تمہارے تایا سے بات کر کے ہم کو تمہارے تایا کے مکان میں چھوڑ گئے تھے اور پھر ایک مہینہ کے بعد آ کر لے گئے اس وقت تمہارے تایا قادیان سے باہر رہتے تھے اور آٹھ روز کے بعد یہاں آیا کرتے تھے اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ان کو دیکھا ہے۔خاکسار نے پوچھا کہ حضرت صاحب کو بھی ان دنوں میں آپ نے کبھی دیکھا تھا یا نہیں؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب رہتے تو اسی مکان میں تھے مگر میں نے آپ کو نہیں دیکھا اور والدہ صاحبہ نے مجھے وہ کمرہ دکھایا جس میں ان دنوں میں حضرت صاحب رہتے تھے۔آج کل وہ کمرہ مرزا سلطان احمد صاحب کے قبضہ میں ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب ابتداء سے ہی گوشہ نشین تھے اس لئے والدہ صاحبہ کو دیکھنے کا موقعہ نہیں ملا ہوگا۔خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ یہ کب کی بات ہے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا مجھے تاریخ تو یاد نہیں مگر یہ یاد ہے کہ جب ہم یہاں قادیان آئے تھے تو ان دنوں میں تمہارے دادا کی وفات کی ایک سالہ رسم ادا ہوئی تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس حساب سے وہ زمانہ