سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 562
سیرت المہدی 562 حصہ سوم ہماری والدہ صاحبہ یعنی حضرت ام المؤمنین نے مجھ سے مزاح کے رنگ میں بعض پنجابی الفاظ بتا بتا کران کے اردو مترادف پوچھنے شروع کئے۔اس وقت میں یہ سمجھتا تھا کہ شاید حرکت کے لمبا کرنے سے ایک پنجابی لفظ اردو بن جاتا ہے۔اس خود ساختہ اصول کے ماتحت میں جب اوٹ پٹانگ جواب دیتا تھا تو والدہ صاحبہ بہت ہنستی تھیں اور حضرت صاحب بھی پاس کھڑے ہوئے ہنستے جاتے تھے۔اسی طرح حضرت صاحب نے بھی مجھ سے ایک دو پنجابی الفاظ بتا کر ان کی اردو پوچھی اور پھر میرے جواب پر بہت ہنسے۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ اس وقت میں نے کہا کی اردو گوتا بتایا تھا۔اور اس پر حضرت صاحب بہت ہنے تھے۔589 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ایک دفعہ مسجد مبارک میں بعد نماز ظہر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی شیر علی صاحب کو بلا کر کچھ ارشاد فرمایا۔یا ان سے کچھ پوچھا مولوی صاحب نے (غالباً حضور کے رعب کی وجہ سے گھبرا کر ) جواب میں اس طرح کے الفاظ کہے کہ حضور نے یہ عرض کیا تھا۔تو میں نے یہ فرمایا تھا بجائے اس کے کہ اس طرح کہتے کہ حضور نے فرمایا تھا تو میں نے عرض کیا تھا۔اس پر اہل مجلس ہنسی کو روک کر مسکرائے۔مگر حضرت صاحب نے کچھ خیال نہ فرمایا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اول تو حضرت صاحب کو ادھر خیال بھی نہ گیا ہوگا۔اور اگر گیا بھی ہو تو اس قسم کی بات کی طرف توجہ دینا یا اس پر مسکرانا آپ کے طریق کے بالکل خلاف تھا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی شیر علی صاحب کو چوک کر اس قسم کے الفاظ کہ دینا خودمولوی صاحب کے متعلق بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کمال شفقت کے ان کے دل میں حضرت صاحب کا اتنا ادب اور رعب تھا کہ بعض اوقات گھبرا کر منہ سے اُلٹی بات نکل جاتی تھی۔590 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے بڑے لڑکے میاں عبدالحی مرحوم کا نکاح بہت چھوٹی عمر میں حضرت صاحب نے پیر منظور محمد صاحب کی چھوٹی لڑکی ( حامدہ بیگم ) کے ساتھ کرادیا تھا۔بعد میں معلوم ہوا۔کہ وہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہیں۔اس پر علماء جماعت کی معرفت اس مسئلہ کی چھان بین ہوئی کہ رضاعت سے کس قدر دودھ پینا مراد