سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 561 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 561

سیرت المہدی 561 حصہ سوم میں زمین کو ارض کہتے ہیں اور انگریزی میں ارتھ کہتے ہیں اور یہ دونوں باہم ملتے جلتے ہیں۔اب یہ دیکھنا ہے کہ اصل میں یہ کس زبان کا لفظ ہے اور کس زبان میں سے دوسری زبان میں لیا گیا ہے۔سو یہ اس طرح معلوم ہو جائے گا کہ ارتھ کے لغوی معنے اور اس کی اصلیت انگریزی لغت میں نہیں ملے گی۔برخلاف اسکے عربی میں ارض کے وہ لغوی اور بنیادی معنے موجود ہیں جن کی مناسبت کے لحاظ سے زمین کو ارض کہتے ہیں۔چنانچہ عربی میں ارض اس چیز کو کہتے ہیں جو تیز چلتی ہو۔مگر باوجود تیز رفتاری کے پھر ایسی ہو کہ وہ ایک بچھونے کی طرح ساکن معلوم ہو۔اب نہ صرف اس سے عربی لفظ کے اصل ہونے کا پتہ لگ گیا۔بلکہ اس علم سے جو اس لفظ میں مخفی ہے۔یہ بھی پتہ لگ گیا کہ یہ الہامی زبان ہے، انسان کی بنائی ہوئی نہیں۔اور اس میں موجودہ سائنس کی تحقیقات سے پہلے بلکہ ہمیشہ سے زمین کی حرکت کا علم موجود ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے اس بارے میں عربی کی دوسب سے بڑی لغتوں یعنی لسان العرب اور تاج العروس کو دیکھا ہے ان دونوں میں ارض کے لفظ کے ماتحت یہ دونوں معنے موجود ہیں۔کہ حرکت میں رہنے والی چیز اور ایسی چیز جو ایک فرش اور بچھونے کی طرح ہو۔بلکہ مزید لطف یہ ہے کہ ان لغتوں میں لکھا ہے کہ ارض کے روٹ میں جس حرکت کا مفہوم ہے وہ سیدھی حرکت نہیں بلکہ چکر والی حرکت ہے چنانچہ جب یہ کہنا ہو کہ میرے سر میں چکر ہے تو اس وقت ارض کا لفظ بولتے ہیں۔588 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ بعض اوقات حضور علیہ السلام کسی جنسی کی بات پر ہنستے تھے اور خوب ہنستے تھے۔یہاں تک میں نے دیکھا ہے کہ بنسی کی وجہ سے آپ کی آنکھوں میں پانی آجاتا تھا۔جسے آپ انگلی یا کپڑے سے پونچھ دیتے تھے۔مگر آپ کبھی بیہودہ بات یا تمسخر یا استہزاء والی بات پر نہیں ہنستے تھے۔بلکہ اگر ایسی بات کوئی آپ کے سامنے کرتا تو منع کر دیتے تھے۔چنانچہ میں نے ایک دفعہ ایک تمسخر کا نا مناسب فقرہ کسی سے کہا۔آپ پاس ہی چار پائی پر لیٹے تھے۔ہوں ہوں کر کے منع کرتے ہوئے اُٹھ بیٹھے اور فرمایا۔یہ گناہ کی بات ہے۔اگر حضرت صاحب نے منع نہ کیا ہوتا تو اس وقت میں وہ فقرہ بھی بیان کر دیتا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس روایت سے مجھے ایک بات یاد آ گئی کہ ایک دفعہ جب میں ابھی بچہ تھا