سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 559 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 559

سیرت المہدی 559 حصہ سوم لگے۔اس کے بعد ” حضرت صاحب۔پھر حضرت اقدس یا حضرت مسیح موعود اور جب بالمشافہ گفتگو ہوتی۔تو احباب عموماً آپ کو حضور کے لفظ سے مخاطب کرتے تھے۔مگر بعض لوگ کبھی کبھی ” آپ بھی کہہ لیتے تھے۔586 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب متوطن پٹیالہ حال انچارج نورہسپتال قادیان نے مجھ سے بیان کیا کہ میں ۱۹۰۵ء کے موسم گرما کی چھٹیوں میں جبکہ اپنے سکول کی نویں جماعت کا طالبعلم تھا۔پہلی مرتبہ قادیان آیا تھا۔میرے علاوہ مولوی عبداللہ صاحب عربی مدرس مہندر کالج و ہائی سکول پٹیالہ۔حافظ نور محمد صاحب مرحوم سیکرٹری جماعت احمدیہ پٹیالہ مستری محمد صدیق صاحب جو آج کل وائسرائیگل لاج میں ملازم ہیں۔شیخ محمد افضل صاحب جو شیخ کرم الہی صاحب کے چازاد بھائی ہیں اور اُس وقت سکول کے طالب علم تھے، میاں خدا بخش المعروف مومن جی جو آج کل قادیان میں مقیم ہیں اس موقعہ پر قادیان آئے تھے۔ہم مہمان خانہ میں ٹھہرے تھے۔ہمارے قریب اور بھی مہمان رہتے تھے جن میں سے ایک شخص وہ تھا جو فقیرانہ لباس رکھتا تھا۔اس کا نام مجھے یاد نہیں۔وہ ہم سے کئی روز پہلے کا آیا ہوا تھا۔جس روز ہم قادیان پہنچے۔اس فقیرانہ لباس والے شخص نے ذکر کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا تھا کہ میری بیعت لے لیں۔آپ نے فرمایا۔کچھ دن یہاں ٹھہر و۔بیعت کی کیا، جلدی ہے ہو جائے گی ، وہ شخص دو تین روز تو رکا رہا۔لیکن جس روز ہم یہاں پہنچے اسی شام یا اگلی شام کو بعد نماز مغرب یا عشاء (ان دنوں حضرت صاحب نماز مغرب کے بعد مسجد میں مجلس فرمایا کرتے تھے۔اور عشاء کی نماز جلدی ہوا کرتی تھی ) حضور نے لوگوں کی بیعت لی۔ہم طلباء نے بھی بیعت کی۔( گومیں بذریعہ خط ۲۔۱۹۰۱ء میں بیعت کر چکا تھا۔اور اس سے بھی پہلے ۱۸۹۹ء میں جبکہ میری عمر پندرہ سولہ سال کے قریب تھی۔اپنے کنبہ کے بزرگوں کے ساتھ جن میں میرے دادا صاحب مولا بخش صاحب اور والد صاحب رحیم بخش صاحب اور میرے بڑے بھائی حافظ ملک محمد صاحب بھی تھے۔حضرت مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی والد حکیم محمد عمر صاحب کے ہاتھ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہو چکا تھا۔یہ بیعت مسجد احمد یہ میں ڈیک بازار پٹیالہ میں ہوئی تھی ) اس وقت اس شخص نے بھی چپکے سے بیعت کرنے والوں کے ساتھ ہاتھ