سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 558 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 558

سیرت المہدی 558 حصہ سوم چاہئے۔آنحضرت ﷺ نے بھی جب اہل نجران کو مباہلہ کے لئے بلایا تھا تو اپنی طرف سے ایک سال کی میعاد پیش کی تھی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ فرمان علی صاحب بی۔اے۔ریٹائر ڈ انـجـيـنـنيـر د محکمه انہا رسا کن دھرم کوٹ بگہ نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ہے کیونکہ انہوں نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ ان کے والد شیخ عزیز الدین صاحب بھی واقعہ مباہلہ مابین مولوی فتح الدین صاحب و رادھے خان پٹھان ساکن کر والیاں اکثر لوگوں کے سامنے بیان کیا کرتے تھے۔اور جن باتوں کی وجہ سے وہ احمدیت کے حق میں متاثر ہوئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھی۔584 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے گھر سے یعنی حضرت اماں جی نے مجھ سے بیان کیا۔کہ جب آخری سفر لاہور میں وفات سے چند روز قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا که الرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيل» یعنی کوچ پھر کوچ ( جو آپ کے قرب موت کی طرف اشارہ تھا ) تو حضرت صاحب نے مجھے بلا کر فرمایا۔کہ جس حصہ مکان میں ہم ٹھہرے ہوئے ہیں۔اُس میں آپ آجائیں اور ہم پ والے حصہ میں چلے جاتے ہیں کیونکہ خدا نے الہام میں الرحيل فرمایا ہے جسے ظاہر میں اس نقل مکانی سے پورا کر دینا چاہئے اور معذرت بھی فرمائی کہ اس نقل مکانی سے آپ کو تکلیف تو ہوگی۔مگر میں اس خدائی الہام کو ظاہر میں پورا کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ مکان بدل لئے گئے۔مگر جو خدا کی تقدیر میں تھا۔وہ پورا ہوا اور چند دن بعد آپ اچانک وفات پاگئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ملا اغلسی کے فرشتے حضرت مسیح موعود کے اس فعل کو دیکھ کر وجد میں آتے ہونگے کہ یہ خدا کا بندہ خدمت دین کا کس قدر عاشق ہے کہ جانتا ہے کہ مقدر وقت آپہنچا ہے مگر خدائی تقدیر کو پیچھے ڈالنے کے لئے لفظوں کی آڑ لے کر اپنی خدمت کے وقت کو لمبا کرنا چاہتا ہے۔یہ ایک محبت و عشق کی کھیل تھی۔جس پر شاید رب العرش بھی مسکرا دیا ہو۔اَللهُمَّ صَلَّ عَلَيْهِ وَ عَلَى مُطَاعِهِ وَبَارِكْ وَسَلَّم۔585 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ میں نے دیکھا ہے کہ شروع میں لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عموماً ”مرزا جی“ کہتے تھے۔پھر ”مرزا صاحب“ کہنے