سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 554 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 554

سیرت المہدی 554 حصہ سوم کے لئے خطاب کے رنگ میں دعا کرنا جائز ہے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو اپنے ایک شعر میں آنحضرت ﷺ سے مخاطب ہو کر آپ سے مدد اور نصرت بھی چاہی ہے چنانچہ فرماتے ہیں:۔”اے سید الوری ! مد دے وقت نصرت است یعنی اے رسول اللہ ! آپ کی امت پر ایک نازک گھڑی آئی ہوئی ہے۔میری مدد کو تشریف لائیے کہ یہ نصرت کا وقت ہے۔580 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضرت اقدس احباب میں تشریف فرما ہوتے تھے۔تو ہمیشہ اپنی نگاہ نیچی رکھتے تھے اور آپ کو اس بات کا بہت کم علم ہوتا تھا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب یا کوئی اور بزرگ مجلس میں کہاں بیٹھے ہیں۔بلکہ جس بزرگ کی ضرورت ہوتی خصوصاً جب حضرت مولوی نورالدین صاحب کی ضرورت ہوتی تو آپ فرمایا کرتے مولوی صاحب کو بلاؤ۔حالانکہ اکثر وہ پاس ہی ہوتے تھے۔ایسے موقعہ پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب فرما دیتے تھے کہ حضرت ! مولوی صاحب تو یہ ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسا موقعہ عموماً حضرت خلیفہ اول کے متعلق پیش آتا تھا۔کیونکہ آپ ادب کے خیال سے حضرت صاحب کی مجلس میں پیچھے ہٹ کر بیٹھتے تھے۔حالانکہ دوسرے لوگ شوق صحبت میں آگے بڑھ بڑھ کر اور حضرت صاحب کے قریب ہو کر بیٹھتے تھے۔وَلِكُلِّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا۔581 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن جب سیر کو جانے سے قبل حضور علیہ السلام چوک متصل مسجد مبارک میں قیام فرما تھے۔تو آپ نے خاکسار کو فرمایا۔کہ مولوی صاحب ( یعنی حضرت خلیفہ اول) کو بلا لاؤ۔خاکسار بلالا یا۔سیر میں جب مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پیچھے رہ جاتے تو حضور علیہ السلام سے عرض کیا جاتا کہ حضور ! مولوی صاحب پیچھے رہ گئے ہیں۔تو حضور علیہ السلام صرف قیام ہی نہ فرماتے بلکہ بعض اوقات مولوی صاحب کی طرف لوٹتے بھی تا کہ مولوی صاحب جلدی سے آکر مل جائیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسا نظارہ میں نے بھی متعدد دفعہ دیکھا ہے۔مگر واپس لوٹنا مجھے یاد نہیں