سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 555 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 555

سیرت المہدی 555 حصہ سوم بلکہ میں نے یہی دیکھا ہے کہ ایسے موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام انتظار میں کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت خلیفہ اول بہت آہستہ چلتے تھے اور حضرت صاحب بہت زود رفتار تھے۔مگر اس زود رفتاری کی وجہ سے وقار میں فرق نہیں آتا تھا۔582 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ خوابوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام ذکر فرما رہے تھے۔میں نے عرض کیا۔مومن کی رو یا صادقہ کس قسم میں سے ہے؟ فرمایا الْقَاءِ مَلَک ہے“۔583 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سائیں ابراہیم صاحب ساکن دھرم کوٹ بگہ ضلع گورداسپور نے مجھے بواسطه مولوی قمر الدین صاحب مولوی فاضل ایک تحریر ارسال کی ہے۔جو سائیں ابراہیم صاحب کی املا پر مولوی قمر الدین صاحب نے لکھی تھی اور اس پر بعض لوگوں کی شہادت بھی درج ہے۔اس تحریر میں سائیں ابراہیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائے دعویٰ میں دھرم کوٹ کے ہم پانچ گس نے بیعت کی تھی یعنی (۱) خاکسار (۲) مولوی فتح دین صاحب (۳) نور محمد صاحب (۴) اللہ رکھا صاحب اور (۵) شیخ نواب الدین صاحب۔اس وقت رادھے خان پٹھان ساکن کروالیاں پٹھاناں اچھا عابد شخص خیال کیا جا تا تھا۔وہ دھرم کوٹ بگہ میں بھی آتا جاتا تھا۔اور مولوی فتح دین صاحب سے اس کی حضرت صاحب کے دعوی کے متعلق گفتگو بھی ہوتی رہتی تھی اور بعض اوقات سخت کلامی تک بھی نوبت پہنچ جاتی تھی۔۱۹۰۰ء کا واقعہ ہے کہ رادھے خان مذکور دھرم کوٹ آیا اور مولوی فتح دین صاحب سے دورانِ گفتگو میں سخت کلامی کی۔اس پر مولوی صاحب نے تو بہ اور استغفار کی تلقین کی کہ ایسی باتیں حضرت صاحب کی شان میں مت کہو۔مگر وہ باز نہ آیا اور کہا کہ میں مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔میں جو کچھ کہتا ہوں سچ کہتا ہوں۔مباہلہ کر کے دیکھ لو۔اس پر مولوی صاحب مباہلہ کے لئے تیار ہو گئے۔اور مباہلہ وقوع میں آ گیا۔مباہلہ کے بعد احمدی احباب نے آپس میں تذکرہ کیا کہ مباہلہ حضرت صاحب کی اجازت کے بغیر کر لیا گیا ہے۔یہ ٹھیک نہیں ہوا۔اس پر حضور اقدس کی