سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 47 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 47

سیرت المہدی في الصدقات۔“ 47 حصہ اوّل 58 بسم الله الرحمن الرحیم۔حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان فرمایا کہ تمہارے تایا کے ہاں ایک لڑکی اور ایک لڑکا پیدا ہوئے تھے مگر دونوں بچپن میں فوت ہو گئے۔لڑکی کا نام عصمت اور لڑکے کا نام عبدالقادر تھا۔حضرت صاحب کو اپنے بھائی کی اولاد سے بہت محبت تھی چنانچہ آپ نے اپنی بڑی لڑکی کا نام اسی واسطے عصمت رکھا تھا۔59 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بڑی بیوی سے حضرت مسیح موعود کے دولڑ کے پیدا ہوئے۔اعنی مرزا سلطان احمد صاحب اور مرزا فضل احمد۔حضرت صاحب ابھی گویا بچہ ہی تھے کہ مرزا سلطان احمد پیدا ہو گئے تھے۔اور ہماری والدہ صاحبہ سے حضرت مسیح موعود کی مندرجہ ذیل اولاد ہوئی۔عصمت جو ۱۸۸۶ء میں پیدا ہوئی اور ۱۸۹۱ء میں فوت ہو گئی۔بشیر احمد اول جو ۱۸۸۷ء میں پیدا ہوا اور ۱۸۸۸ء میں فوت ہو گیا۔حضرت خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد جو ۱۸۸۹ء میں پیدا ہوئے۔شوکت جو ۱۸۹۱ء میں پیدا ہوئی اور ۱۸۹۲ء میں فوت ہو گئی۔خاکسار مرزا بشیر احمد جو۱۸۹۳ء میں پیدا ہوا۔مرزا شریف احمد جو ۱۸۹۵ء میں پیدا ہوئے۔مبارکہ بیگم جو ۱۸۹۷ء میں پیدا ہوئیں۔مبارک احمد جو ۱۸۹۹ء میں پیدا ہوا اور ۱۹۰۷ء میں فوت ہو گیا۔امتہ انھیر جو ۱۹۰۳ء میں پیدا ہوئی اور ۱۹۰۳ء میں ہی فوت ہوگئی۔امتہ الحفیظ بیگم جو ۱۹۰۴ء میں پیدا ہوئیں۔سوائے امتہ الحفیظ بیگم کے جو حضرت صاحب کی وفات کے وقت صرف تین سال کی تھیں باقی سب بچوں کی حضرت صاحب نے اپنی زندگی میں شادی کر دی تھی۔60 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب تم بچے تھے اور شاید دوسری جماعت میں ہو گے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود رفع حاجت سے فارغ ہو کر آئے تو تم اس وقت ایک چارپائی پر الٹی سیدھی چھلانگیں مارر ہے اور قلابازیاں کھا رہے تھے آپ نے دیکھ کر تبسم فرمایا اور کہا دیکھو یہ کیا کر رہا ہے پھر فرمایا اسے ایم۔اے کرانا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فقرہ روز مرہ کی زبان میں بے ساختہ نکلا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر غور کریں تو اس میں دو تین پیشگوئیاں ہیں۔