سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 48 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 48

سیرت المہدی 48 حصہ اوّل 61 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عادت تھی کہ ہمیشہ رات کو سوتے ہوئے پاجامہ اتار کر تہ بند باندھ لیتے تھے اور عموماً کر یہ بھی اتار کر سوتے تھے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود جب رفع حاجت کے بعد طہارت سے فارغ ہوتے تھے تو اپنا ہاتھ مٹی سے ملکر پانی سے دھوتے تھے۔62 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض اوقات گھر میں بچوں کو بعض کہانیاں بھی سنایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک برے بھلے کی کہانی بھی آپ عموماً سناتے تھے جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک برا آدمی تھا اور ایک اچھا آدمی تھا۔اور دونو نے اپنے رنگ میں کام کئے اور آخر کار برے آدمی کا انجام برا ہوا اور اچھے کا اچھا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک بینگن کی کہانی بھی آپ سناتے تھے جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک آقا تھا اس نے اپنے نوکر کے سامنے بینگن کی تعریف کی تو اس نے بھی بہت تعریف کی چند دن کے بعد آقا نے مذمت کی تو نو کر بھی مذمت کرنے لگا۔آقا نے پوچھا یہ کیا بات ہے کہ اس دن تو تو تعریف کرتا تھا اور آج مذمت کرتا ہے۔نوکر نے کہا میں تو حضور کا نوکر ہوں بینگن کا نوکر نہیں ہوں۔63 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ ہم تینوں بھائیوں نے مل کر ایک ہوائی بندوق کے منگانے کا ارادہ کیا مگر ہم فیصلہ نہ کر سکتے تھے کہ کونسی منگوا ئیں آخر ہم نے قرعہ لکھ کر حضرت صاحب سے قرعہ اُٹھوایا اور جو بندوق نکلی وہ ہم نے منگالی۔اور پھر اس سے بہت شکار کیا۔( یہ ۲۲ بور کی بی۔ایس اے ائیر رائفل تھی) 64 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ ہم گھر کے بچے مل کر حضرت صاحب کے سامنے میاں شریف احمد کو چھیڑ نے لگ گئے کہ ابا کو تم سے محبت نہیں ہے اور ہم سے ہے۔میاں شریف بہت چڑتے تھے۔حضرت صاحب نے ہمیں روکا بھی کہ زیادہ تنگ نہ کرو مگر ہم بچے تھے لگے رہے۔آخر میاں شریف رونے لگ گئے اور ان کی عادت تھی کہ جب روتے تھے تو ناک سے بہت رطوبت بہتی تھی۔حضرت صاحب اُٹھے اور چاہا کہ ان کو گلے لگالیں تا کہ ان کا شک دور ہومگر وہ اس وجہ سے کہ ناک بہہ رہا تھا