سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 517
سیرت المہدی 517 حصہ سوم ہی رونے اور چیخنے کا شور پڑا ہوا تھا۔جو بعد میں کم نظر آیا ہے۔دوسرے روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقریر میں فرمایا کہ دُعا میں اس قدر اثر ہے۔کہ اگر کوئی کہے کہ دعا سے پہاڑ چل پڑتا ہے تو میں اُسے یقین کرونگا اور اگر کوئی کہے کہ دعا سے درخت نقل مکانی کر جاتا ہے تو میں اسے سچ مانوں گا۔ایک مسلمان کے پاس سوائے دُعا کے اور کوئی ہتھیار نہیں۔یہی تو وہ چیز ہے جو انسان کی رسائی خدا تعالے تک کر دیتی ہے۔500 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق میں بعض باتیں خاص طور پر نمایاں تھیں۔اور ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ کبھی کسی کی دل شکنی کو پسند نہیں فرماتے تھے۔اور اس سے بہت ہی بچتے تھے۔اور دوسروں کو بھی منع فرماتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میری طبیعت پر بھی یہی اثر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کا یہ ایک خاص نمایاں پہلو تھا۔کہ حتی الوسع دوسروں کی انتہائی دلداری فرماتے اور دل شکنی سے بچتے تھے۔501 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نبی بخش صاحب ساکن فیض اللہ چک حال محلہ دارالفضل قادیان نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ میرا لڑکا عبدالرحمن ہائی سکول میں تعلیم پاتا تھا وہ بعارضہ بخار محرقہ و سرسام تین چار دن بیمار رہ کر قادیان میں فوت ہو گیا۔میں اس وقت فیض اللہ چک میں ملازم تھا۔مجھے اطلاع ملی تو قادیان آیا اور حضرت مولوی نورالدین صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور اس سے فارغ ہوکر میں واپس فیض اللہ چک چلا گیا۔پھر میں آئندہ جمعہ کے دن قادیان آیا۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک کے پہلے محراب میں جو کھڑکیوں کے درمیان ہوتا تھا۔تشریف فرما تھے۔میں اندر کی سیٹرھیوں سے مسجد میں گیا۔جب حضور کی نظر شفقت مجھ پر پڑی تو حضور نے فرمایا: آگے آجاؤ۔وہاں پر بڑے بڑے ارکان حضور کے حلقہ نشین تھے۔حضور کا فرمانا تھا کہ سب نے میرے لئے راستہ دیدیا۔حضور نے میرے بیٹھتے ہی محبت کے انداز میں فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اپنے بچہ کی موت پر بہت صبر کیا ہے۔میں نعم البدل کے لئے دعا کروں گا۔چنانچہ اس دُعائے نعم البدل کے نتیجہ میں خدا نے مجھے ایک اور بچہ دیا جس کا نام فضل الرحمن ہے جو آج کل بحیثیت مبلغ گولڈ کوسٹ افریقہ میں کام کر رہا ہے۔