سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 518
سیرت المہدی 518 حصہ سوم 502 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ بنی بخش صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ میں ایک دفعہ بوجہ کمزوری نظر حضرت خلیفہ اول کے پاس علاج کے لئے حاضر ہوا۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔کہ شاید موتیا اُتریگا۔میں نے دو اور ڈاکٹروں سے بھی آنکھوں کا معائنہ کرایا۔سب نے یہی کہا کہ موتیا اتر یگا۔تب میں مضطرب و پریشان ہوکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور تمام حال عرض کر دیا۔حضور نے الْحَمْدُ لِلہ پڑھ کر میری آنکھوں پر دستِ مبارک پھیر کر فرمایا ” میں دُعا کرونگا اس کے بعد پھر نہ وہ موتیا اترا اور نہ ہی وہ کم نظری رہی اور اسی وقت سے خدا کے فضل و کرم سے میری آنکھیں درست ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حافظ صاحب اس وقت اچھے معمر آدمی ہیں اور اس عمر کو پہنچ چکے ہیں جس میں اکثر لوگوں کو موتیا بند کی شکایت ہو جاتی ہے۔503 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب ساکن کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک کشمیری بھائی نے اپنے نوزائیدہ لڑکے کی ولادت پر مجھے خط لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نام دریافت کر کے تحریر کرو۔میں نے حضرت اقدس سے اس بارہ میں استفسار کیا۔حضور نے فوراً ہی عبدالکریم نام تجویز فرمایا۔پھر کچھ خیال آیا۔تو مجھ سے دریافت فرمایا کہ اس کے باپ کا کیا نام ہے۔میں نے نام بتایا جواب مجھے یاد نہیں۔حضور نے فرمایا۔کہ اچھا جو نام پہلے مونہہ سے نکلا ہے۔( یعنی عبدالکریم ) وہی ٹھیک ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ خواجہ عبدالرحمن صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قادیان میں تعلیم پاتے تھے۔اور اب کشمیر میں محکمہ جنگلات میں ملازم ہیں۔504 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب ساکن کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اکثر اصحاب اپنے بچوں کے نام حضور علیہ السلام سے رکھواتے تھے اور حضور نام تجویز فرما دیتے تھے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب کے بڑے لڑکے کا نام عبد الرحمن اور بندہ کی دو بہنوں کے نام حلیمہ اور امۃ اللہ بھی حضور ہی کے تجویز کردہ ہیں۔