سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 495
سیرت المہدی 495 حصہ سوم (۷) اسی روایت نمبر ۹۸ میں میاں عبداللہ صاحب سنوری نے پہلے دن کی بیعت کی تاریخ ۲۰ رجب ۱۳۰۶ء مطابق ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء بیان کی ہے۔مگر رجسٹر بیعت کنندگان سے پہلے دن کی بیعت ۱۹؍ رجب اور ۲۱ / مارچ ظاہر ہوتی ہے یعنی نہ صرف تاریخ مختلف ہے بلکہ قمری اور شمسی تاریخوں کا مقابلہ بھی غلط ہو جاتا ہے اس اختلاف کی وجہ سے میں نے گزشتہ جنتری کو دیکھا تو وہاں سے مطابق زبانی روایت ۲۰ رجب کو ۲۳ مارچ ثابت ہوئی ہے۔پس یا تو رجسٹر کا اندراج چند دن بعد میں ہونے کی وجہ سے غلط ہو گیا ہے اور یا اس ماہ میں چاند کی رویت جنتری کے اندراج سے مختلف ہوئی ہوگی۔واللہ اعلم۔(۸) روایت نمبر ۳۰۶ میں خارق عادت طور پر بخاری کا حوالہ مل جانے کا واقعہ مذکور ہے اور اس کے متعلق یہ الفاظ درج ہیں کہ: "مفتی محمد صادق صاحب نے بیان کیا کہ یہ واقعہ لدھیانہ کا ہے اور اس وقت حضرت صاحب کو غالبا نون ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث میں حوالہ کی ضرورت پیش آئی تھی۔سواؤل تو بخاری ہی نہ ملتی تھی۔اور جب ملی تو حوالہ کی تلاش مشکل تھی الخ۔اس واقعہ کے متعلق پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔کہ یہ واقعہ میرے سامنے پیش آیا تھا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے مباحثہ تھا اور میں اس میں کا تب تھا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرچوں کی نقل کرتا تھا۔مفتی محمد صادق صاحب نے جو یہ بیان کیا ہے کہ غالباً حضرت صاحب کو نون ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث میں حوالہ کی ضرورت پیش آئی تھی۔اس میں جناب مفتی صاحب کو غلطی لگی ہے۔کیونکہ مفتی صاحب وہاں نہیں تھے۔نون خفیفہ وثقیلہ کی بحث تو دہلی میں مولوی محمد بشیر سہسوانی ثم بھو پالوی کے ساتھ تھی۔اور تلاش حوالہ بخاری کا واقعہ لدھیانہ کا ہے۔بات یہ تھی کہ لدھیانہ کے مباحثہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی نے بخاری کا ایک حوالہ طلب کیا تھا۔بخاری موجود تھی۔لیکن اس وقت اس میں یہ حوالہ نہیں ملتا تھا۔آخر کہیں سے توضیح تلویح منا کرحوالہ نکال کر دیا گیا۔صاحب توضیح نے لکھا ہے۔کہ یہ حدیث بخاری میں ہے۔اور اسی واقعہ کے متعلق شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا کہ:۔روایت نمبر ۳۰۶ میں حضرت حکیم الامت خلیفہ مسیح اول کی روایت سے ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے اور وو