سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 496
سیرت المہدی 496 حصہ سوم حضرت مکرمی مفتی محمد صادق صاحب کی روایت سے اس کی مزید تصریح کی گئی ہے۔مگر مفتی صاحب نے اُسے لدھیانہ کے متعلق بیان فرمایا ہے اور نونِ ثقیلہ والی بحث کے تعلق میں ذکر کیا ہے۔جو درست نہیں ہے۔مفتی صاحب کو اس میں غلطی لگی ہے۔لدھیانہ میں نہ تو نونِ ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث ہوئی اور نہ اس قسم کے حوالہ جات پیش کرنے پڑے۔نونِ ثقیلہ کی بحث دہلی میں مولوی محمد بشیر بھو پالوی والے مباحثہ کے دوران میں پیش آئی تھی۔اور وہ نون ثقیلہ کی بحث میں اُلجھ کر رہ گئے تھے۔اور جہاں تک میری یاد مساعدت کرتی ہے اس مقصد کے لئے بھی بخاری کا کوئی حوالہ پیش نہیں ہوا۔الحق دہلی سے اس کی تصدیق ہوسکتی ہے۔دراصل یہ واقعہ لاہور میں ہوا تھا۔مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ”محد ثیت اور نبوت پر بحث ہوئی تھی۔یہ مباحثہ محبوب رائیوں کے مکان متصل لنگے منڈی میں ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محدثیت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے بخاری کی اس حدیث کا حوالہ دیا۔جس میں حضرت عمر کی محدثیت پر استدلال تھا۔مولوی عبدالحکیم صاحب کے مددگاروں میں سے مولوی احمد علی صاحب نے حوالہ کا مطالبہ کیا۔اور بخاری خود بھیج دی۔مولوی محمد احسن صاحب نے حوالہ نکالنے کی کوشش کی مگر نہ نکلا۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود نکال کر پیش کیا۔اور یہ حدیث صحیح بخاری پارہ ۱۴ حصہ اول باب مناقب عمرہ میں ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں عن ابی ھریرة رضی الله تعالى عنه۔قال النَّبِيُّ صلّى الله عليه وسلم قد كان فِيمَن قبلكم من بنى اسرائيل رجال يُكَلَّمُونَ من غيران يكونوا انبياءَ فَإِنْ يَكُ مِنْ أُمَّتِى مِنْهُمْ اَحَدٌ فَعُمَر - جب حضرت صاحب نے یہ حدیث نکال کر دکھا دی۔تو فریق مخالف پر گویا ایک موت وارد ہو گئی اور مولوی عبدالحکیم صاحب نے اسی پر مباحثہ ختم کر دیا‘۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مندرجہ بالا روایتوں میں جو اختلاف ہے اس کے متعلق خاکسار ذاتی طور پر کچھ عرض نہیں کر سکتا۔کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ہاں اس قدر درست ہے کہ نونِ ثقیلہ والی بحث دہلی میں مولوی محمد بشیر والے مباحثہ میں پیش آئی تھی۔اور بظاہر اس سے بخاری والے حوالہ کا جوڑ نہیں ہے۔پس اس حد تک تو درست معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ دہلی والے مباحثہ کا نہیں ہے۔آگے رہا لا ہور اور لدھیانہ کا اختلاف ،سواس کے متعلق میں کچھ عرض نہیں کر سکتا۔نیز خاکسار افسوس کے ساتھ عرض کرتا ہے کہ اس وقت جبکہ سیرۃ المہدی کا حصہ سوم زیر تصنیف ہے۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی فوت ہو چکے ہیں۔پیر صاحب