سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 494
سیرت المہدی 494 حصہ سوم (۲) روایت نمبر ۲۲ میں حضرت مسیح موعود السلام کے الہامات کی نوٹ بک کے متعلق جو یہ الفاظ آتے ہیں۔کہ اب وہ نوٹ بک کہاں ہے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا تمہارے بھائی کے پاس ہے۔اس میں بھائی سے مراد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ ہیں۔(۳) روایت نمبر ۳۷، ۴۶ ، ۱۲۷ حصہ اول طبع دوم میں یہ بیان کیا گیا ہے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حقیقی ہمشیرہ مراد بی بی صاحبہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے بڑے بھائی مرزا محمد بیگ کے ساتھی بیاہی گئی تھیں۔مگر یہ کہ وہ جلد فوت ہو گیا۔اس بارہ میں والدہ صاحبہ عزیزم مرزا رشید احمد صاحب نے جو ہماری بھا وجہ ہیں مجھ سے بیان کیا۔کہ ہماری پھوپھی مراد بی بی کی شادی مرز امحمد بیگ کے ساتھ نہیں ہوئی تھی۔بلکہ مرزا احمد بیگ کے بڑے بھائی مرزا غلام غوث کے ساتھ ہوئی تھی۔مرزا محمد بیگ مرزا احمد بیگ سے چھوٹا تھا۔اور بچپن ہی میں فوت ہو گیا تھا۔(۴) روایت نمبر اہ کی بناء پر جو بعض کمینہ مزاج مخالفین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام کے متعلق استہزاء کا طریق اختیار کیا تھا۔اس کا مفصل جواب حصہ اول طبع دوم کی اسی روایت یعنی روایت نمبر ۵۱ میں درج کیا جا چکا ہے۔اسی ضمن میں روایات نمبر ۴۴،۲۵، ۹۸، ۴۱۲،۱۳۴،۱۲۹ اور نمبر ۴۳۸ بھی قابل ملاحظہ ہیں جن سے اس بحث پر مزید روشنی پڑتی ہے۔(۵) روایت نمبر ۵۵ میں حضرت والدہ صاحبہ کے یہ الفاظ درج ہیں کہ ”چنانچہ میں نے آپ کی وفات کے بعد آپ کی طرف سے حج کروا دیا۔اس کے متعلق یہ بات قابلِ نوٹ ہے۔کہ حضرت والدہ صاحبہ نے حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم کو بھیج کر حضرت صاحب کی طرف سے حج بدل کروایا تھا۔اور حافظ صاحب کے سارے اخراجات والدہ صاحبہ نے خود برداشت کئے تھے۔حافظ صاحب پرانے صحابی تھے اور اب عرصہ ہوا فوت ہو چکے ہیں۔(۲) روایت نمبر ۹۸ حصہ اول طبع دوم میں میاں عبداللہ صاحب سنوری نے ذکر کیا ہے۔کہ انہوں نے میاں محمد حسین صاحب مراد آبادی خوشنویس کے بعد چوتھے نمبر پر بیعت کی تھی۔مگر جو ابتدائی رجسٹر بیعت کنندگان مجھے حال ہی میں ملا ہے اس کے اندراج کے لحاظ سے ان کا نام نمبر پر درج ہے۔