سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 477
سیرت المہدی 477 حصہ دوم چیخ و پکار کو دیکھئے۔اور دوسری طرف میرے اس جرم کو دیکھئے کہ میں نے خدا کے نام کا استعمال اس حد سے کچھ زیادہ دفعہ کیا ہے۔جو ڈاکٹر صاحب کے خیال میں مناسب تھی۔تو حیرت ہوتی ہے۔خیر جو بات میں کہنا چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ ہر کام جو ذرا بھی مستقل حیثیت رکھتا ہو۔بلکہ زندگی کی ہر حرکت و سکون کو خدا تعالیٰ کے اسم مبارک سے شروع کیا جائے تا کہ ایک تو کام کرنے والے کی نیت صاف رہے اور دوسرے خدا کا نام لینے کی وجہ سے کام میں برکت ہو۔چنانچہ قرآن شریف نے جو اپنی ہر سورت کو بسم اللہ سے شروع فرمایا ہے۔تو اس میں بھی ہمارے لئے یہی عملی سبق مقصود ہے۔اب ناظرین کو یہ معلوم ہے اور ڈاکٹر صاحب موصوف سے بھی یہ امر مخفی نہیں کہ سیرۃ المہدی کوئی مرتب کتاب نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف روایات بلا کسی ترتیب کے اپنی مستقل حیثیت میں الگ الگ درج ہیں۔اس لئے ضروری تھا کہ میں اس کی ہر روایت کو بسم اللہ سے شروع کرتا۔اگر سیرۃ المہدی کی روایات ایک ترتیب کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہوتی ہوئی ایک متحدہ صورت میں جمع ہوتیں۔تو پھر یہ ساری روایات ایک واحد کام کے حکم میں سبھی جاتیں اور اس صورت میں صرف کتاب کے شروع میں بسم الله الرحمن الرحیم کا لکھ دینا کافی ہوتا۔لیکن موجودہ صورت میں اس کی ہر روایت ایک مستقل منفر دحیثیت رکھتی ہے اس لئے میں نے ہر روایت کو بسم اللہ سے شروع کیا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم نے اپنی ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ کو رکھا ہے۔بہر حال اگر قرآن شریف اپنی ہر سورت کے آغاز میں بسم اللہ کا درج کرنا ضروری قرار دیتا ہے۔باوجود اس کے کہ اس کی تمام سورتیں ایک واحدلڑی میں ترتیب کے ساتھ پروٹی ہوئی ہیں۔تو سیرۃ المہدی کی روایات جو بالکل کسی ترتیب میں بھی واقع نہیں ہوئیں بلکہ فی الحال ان میں سے ہر ایک الگ الگ مستقل حیثیت رکھتی ہے حتی کہ اسی وجہ سے ڈاکٹر صاحب نے سیرۃ المہدی کو ایک گڑ بر مجموعہ قرار دیا ہے بدرجہ اولی بسم اللہ سے شروع کی جانی چاہئیں اور اسی خیال سے میں نے کسی روایت کو بغیر بسم اللہ کے شروع نہیں کیا۔در اصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات جمع کرنے کا کام ایک بڑی ذمہ داری کا کام ہے