سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 476 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 476

سیرت المہدی 476 حصہ دوم دفعه چھوڑ سکتا اگر قرآن شریف کو باوجود اس کے کہ وہ خدا کا کلام اور مجسم برکت و رحمت ہے اپنی ہر سورت کے شروع میں خدا کا نام لینے کی ضرورت ہے تو ہم کمزور انسانوں کے لئے جنہیں اپنے ہر قدم پر لغزش کا اندیشہ رہتا ہے یہ ضرورت بدرجہ اولی سمجھی جانی چاہیے۔آنحضرت ﷺ ( فدا نفسی ) فرماتے ہیں کل امر ذی بال لا يُبدأ ببسم الله فهو ابتر - یعنی ہر کام جو ذراسی بھی اہمیت رکھتا ہو وہ اگر بسم اللہ سے شروع نہ کیا جائے تو وہ برکات سے محروم ہو جاتا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب ہیں کہ میرے بسم اللہ لکھنے کو بچوں کا کھیل قرار دے رہے ہیں اور اگر ڈاکٹر صاحب کا یہ منشاء ہو کہ بس صرف کتاب کے شروع میں ایک دفعہ بسم اللہ لکھ دینی کافی تھی اور ہر روایت کے آغاز میں اس کا دہرانا مناسب نہیں تھا۔تو میں کہتا ہوں کہ قرآن شریف نے کیوں ہر سورت کے شروع میں اسے دہرایا ہے؟ کیا یہ کافی نہ تھا کہ قرآن شریف کے شروع میں صرف ایک بسم الله درج کر دی جاتی اور پھر ہر سورت کے شروع میں اسے نہ لایا جاتا۔جو جواب ڈاکٹر صاحب قرآن شریف کے متعلق دیں گے وہی میری طرف سے تصور فرمالیں۔دراصل بات یہ ہے جسے ڈاکٹر صاحب نے اپنے غصہ میں نظر انداز کر رکھا ہے کہ ہر کام جو ذرا بھی مستقل حیثیت رکھتا ہو خدا کے نام سے شروع ہو جانا چاہیے اور یہی آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کا منشاء ہے جواو پر درج کیا گیا ہے۔اسلام نے تو اس مسئلہ پر یہاں تک زور دیا ہے کہ انسان کی کوئی حرکت و سکون بھی ایسا نہیں چھوڑا جس کے ساتھ خدا کے ذکر کو کسی نہ کسی طرح وابستہ نہ کر دیا ہو۔اُٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا سونا جاگنا، بیوی کے پاس جانا، گھر سے نکلنا،گھر میں داخل ہونا شہر سے نکلنا، شہر میں داخل ہونا کسی سے ملنا، کسی سے رخصت ہونا، رفع حاجت کے لئے پاخانہ میں جانا، کپڑے بدلنا، کسی کام کو شروع کرنا کسی کام کوختم کرنا بغرض زندگی کی ہر حرکت وسکون میں خدا کے ذکر کو داخل کر دیا ہے۔اور میرے نزدیک اسلام کا یہ مسئلہ اس کی صداقت کے زبر دست دلائل میں سے ایک دلیل ہے۔مگر نہ معلوم ڈاکٹر صاحب میرے بسم اللہ لکھنے پر کیوں چیں بجبیں ہور ہے ہیں میں نے کوئی ڈاکہ مارا ہوتا یا کسی بے گناہ کو قتل کر دیا ہوتا یا کسی غریب بے بس کے حقوق کو دبا کر بیٹھ گیا ہوتا یا کسی الحاد و کفر کا ارتکاب کرتا تو ڈاکٹر صاحب کی طرف سے یہ شور غوغا کچھ اچھا بھی لگتا۔لیکن ایک طرف اس