سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 475
سیرت المہدی 475 حصہ دوم ہمت والا شخص اسے ترتیب بھی دے لے گا۔بہر حال اس کام کی تکمیل کی طرف ایک قدم تو اُٹھایا گیا۔اور اگر آپ ذوق شناس دل رکھتے تو آپ کو اس گڑ بڑ مجموعہ میں بھی بہت سی اچھی باتیں نظر آجاتیں۔اور مذاق اُڑوانے کی بھی آپ نے خوب کہی۔مکرم ڈاکٹر صاحب ! آپ خود ہی مذاق اُڑانے والے ہیں۔سنجیدہ ہو جائیے۔بس نہ میرا مذاق اڑے گا اور نہ آپ کی متانت اور سنجیدگی پر کسی کو حرف گیری کا موقعہ ملے گا۔آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں۔یہ تو سب اپنے اختیار کی بات ہے۔پانچواں اصولی اعتراض جو ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے مضمون کے شروع میں بیان کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ سیرۃ المہدی میں : احادیث رسول اللہ ﷺ سے ایک سیڑھی آگے چڑھنے کی کوشش کی گئی ہے۔یعنی ہر ایک روایت کو بسم الله الرحمن الرحیم سے شروع کیا ہے۔پڑھنے والے کو سمجھ نہیں آتا کہ یہ موجودہ زمانے کی راویوں کی کوئی روایت شروع ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔یا قرآن کی سورۃ شروع ہو رہی ہے۔خاصہ پارہ عم نظر آتا ہے۔گویا جابجا سورتیں شروع ہورہی ہیں۔حدیث کی نقل ہوتے ہوتے قرآن کی نقل بھی ہونے لگی۔اسی کا نام بچوں کا کھیل ہے۔“ میں اس اعتراض کے لب ولہجہ کے متعلق کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ جو کچھ کہنا تھا اصولی طور پر کہہ چکا ہوں۔اب کہاں تک اسے دہرا تا جاؤں۔مگر افسوس یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں میں بسم اللہ بھی کھٹکنے سے نہیں رہی۔تعصب بھی بُری بلا ہے میں تبرک و تیمن کے خیال سے ہر روایت کے شروع میں بسم اللہ لکھتا ہوں۔اور ڈاکٹر صاحب آتش غضب میں جلے جاتے ہیں۔مگر مکرم ڈاکٹر صاحب اس معاملہ میں گو مجھے آپ کی اس تکلیف میں آپ سے ہمدردی ضرور ہے۔لیکن بسم الله الرحمن الرحیم کا لکھنا تو میں کسی صورت میں نہیں چھوڑ سکتا۔آپ کے اعتراض کا اصل مطلب یہ معلوم ہوتا ہے۔کہ جو کچھ قرآن شریف نے کیا ہے۔اس کے خلاف کرو تا کہ نقل کرنے کے الزام نیچے نہ آجاؤ۔میں کہتا ہوں کہ خواہ دنیا ہمارا نام نقال رکھے یا اس سے بھی بڑھ کر کوئی خطاب دے لیکن قرآن شریف کے نمونہ پر چلنا کوئی مسلمان نہیں