سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 474
سیرت المہدی 474 حصہ دوم کی تنقید اور باریک بینیوں کا نشان تک نہیں ہے۔محدثین کا مقدس گروہ میرے لئے ہر طرح جائے عزت و احترام ہے اور گو جائز طور پر دوسروں سے آگے بڑھنے کی خواہش ہر صحیح الدماغ شخص کے دل وسینہ میں موجود ہوتی ہے یا کم از کم ہونی چاہیے۔لیکن میرے دل کا یہ حال ہے وَاللَّهُ عَلَى مَا أَقُولُ شَهِيدٌ کہ ائمہ حدیث کا خوشہ چین ہونے کو بھی اپنے لئے بڑی عزتوں میں سے ایک عزت خیال کرتا ہوں۔اور ان کے مد مقابل کھڑا ہونا یا ان کے سامنے اپنی کسی ناچیز کوشش کا نام لینا بھی ان کی ارفع اور اعلیٰ شان کے منافی سمجھتا ہوں۔میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ کتاب کے شروع میں جو چند فقرات عربی طریق کے مطابق لکھے گئے ہیں وہ نقل کی نیت سے ہر گز نہیں لکھے گئے لیکن اگر نقل کی نیت ہو بھی تو میرے نزدیک اس میں ہرگز کوئی حرج نہیں ہے۔مکرم ڈاکٹر صاحب ! اگر ہم اپنے بزرگوں کے نقش پا پر نہ چلیں گے تو اور کس کے چلیں گے۔حضرت مسیح موعود کی تو یہاں تک خواہش رہتی تھی کہ ممکن ہو تو احمدیوں کی زبان ہی عربی ہو جائے۔پس اگر میری قلم سے چند فقرے عربی صرف ونحو کے مطابق لکھے گئے اور میں خدا کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ وہ میں نے نقل اور تصنع کے طور پر نہیں لکھے۔تو آپ اس کے متعلق اس طرح دل آزار طریق پر اعتراض کرتے ہوئے بھلے نہیں لگتے۔باقی رہی محدثین کی تنقید اور باریک بینی۔سو وہ تو مسلم ہے اور میری خدا سے دعا ہے کہ وہ مجھے ان کا سا دل و دماغ اور علم و عمل عطا فرمائے۔پس آپ اور کیا چاہتے ہیں میں نے جہاں تک مجھ سے ہو سکا چھان بین اور تحقیق و تدقیق سے کام لیا ہے۔اور جہاں آپ نے آگے چل کر میری غلطیوں کی مثالیں پیش فرمائی ہیں۔وہاں انشاء اللہ میں یہ ثابت کر سکوں گا کہ میں نے روایات کے درج کرنے میں اندھا دھند طریق سے کام نہیں لیا۔آپ کا یہ تحریر فرمانا کہ سیرۃ المہدی ” ایک گڑ بڑا مجموعہ ہے نیز یہ کہ میں نے ” مفت میں اپنا مذاق اڑوایا ہے آپ کو مبارک ہو اس قسم کی باتوں کا میں کیا جواب دوں۔اگر سیرۃ المہدی ایک گڑ بڑا مجموعہ ہے تو بہر حال ہے تو وہ ہمارے آقا علیہ السلام کے حالات میں ہی اور نہ ہونے سے تو اچھا ہے۔میں نے تو خود لکھ دیا تھا کہ میں نے روایات کو بلا کسی ترتیب کے درج کیا ہے۔پھر نہ معلوم آپ نے اسے ایک گڑ بڑا مجموعہ قرار دینے میں کونسی نئی علمی تحقیق کا اظہار فرمایا ہے۔آج اگر وہ بے ترتیب ہے تو کل کوئی