سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 472 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 472

سیرت المہدی 472 حصہ دوم سامنے رہے۔ڈاکٹر صاحب نے چونکہ اس جگہ کوئی مثال نہیں دی اس لئے میں نہیں سمجھ سکتا کہ کونسی روایت ان کے مد نظر ہے۔لیکن اگر کوئی روایت پیش کی جائے جس میں اس قسم کی کمزوری ہے اور میں نے اسے ظاہر نہیں کیا تو گومحدثین کے اصول کے لحاظ سے میں پھر بھی زیر الزام نہیں ہوں۔کیونکہ محدثین اپنی کتابوں میں اس قسم کی کمزوریوں کو عموماً خود بیان نہیں کیا کرتے بلکہ یہ کام تحقیق و تنقید کرنے والوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔لیکن پھر بھی میں اپنی غلطی کو تسلیم کرلوں گا اور آئندہ مزید احتیاط سے کام لوں گا۔ہاں ایک غیر واضح سی مثال روایت نمبر ۷۵ کی ڈاکٹر صاحب نے بیان فرمائی ہے جس میں حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کی روایت سے کسی ہندو کا واقعہ درج ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مخالفانہ توجہ ڈالنی چاہی تھی۔لیکن خود مرعوب ہو کر بدحواس ہو گیا۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ اس روایت میں یہ درج نہیں ہے کہ حضرت خلیفہ ثانی نے یہ واقعہ خود دیکھا تھا یا کسی کی زبانی سنا تھا۔اور اگر کسی کی زبانی سنا تھا تو وہ کون تھا ؟ اس کے جواب میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب ایک واقعہ کوئی شخص بیان کرتا ہے اور روایت کے اندر کوئی ذکر اس بات کا موجود نہیں ہوتا کہ اس واقعہ کے وقت وہ خود بھی موجود نہیں تھا اور نہ وہ واقعہ ایسے زمانہ یا جگہ سے تعلق رکھنا بیان کیا جاتا ہے کہ جس میں اس راوی کا موجود ہونا محال امتنع ہو ( مثلاً وہ ایسے زمانہ کا واقعہ ہو کہ جس میں وہ راوی ابھی پیدا ہی نہ ہوا ہو یا وہ ایسی جگہ سے تعلق رکھتا ہو کہ جہاں وہ راوی گیا ہی نہ ہو ) تولا محالہ یہی سمجھا جائے گا کہ راوی خود اپنا چشم دید واقعہ بیان کر رہا ہے اور اس لئے یہ ضرورت نہیں ہوگی کہ راوی سے اس بات کی تصریح کرائی جاوے کہ آیا وہ واقعہ اس کا چشم دید ہے یا کہ اس نے کسی اور سے سنا ہے۔بہر حال میں نے ایسے موقعوں پر یہی سمجھا ہے کہ راوی خود اپنی دیکھی ہوئی بات بیان کر رہا ہے۔اسی لئے میں نے اس سے سوال کر کے مزید تصریح کی ضرورت نہیں سمجھی۔ہاں البتہ جہاں مجھے اس بات کا شک پیدا ہوا ہے کہ راوی کی روایت کسی بلا واسطہ علم پر مبنی نہیں ہے وہاں میں نے خودسوال کر کے تصریح کرالی ہے۔چنانچہ جو مثال مولوی سید سرور شاہ صاحب کی روایت کی میں نے اوپر بیان کی ہے اس میں یہی صورت پیش آئی تھی۔مولوی صاحب موصوف نے منشی احمد جان صاحب کے متعلق ایک بات بیان کی کہ ان کی