سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 471 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 471

سیرت المہدی 471 حصہ دوم۔کیونکہ اس طرح کئی مفید معلومات ہاتھ سے دینے پڑتے ہیں۔عمدہ طریق یہی ہے کہ اصول درایت سے تسلی کرنے کے بعد ایسی روایات کو درج کر دیا جائے اور چونکہ ان کا مرسل ہونا بد یہی ہوگا۔اس لئے ان کی کمزوری بھی لوگوں کے سامنے رہے گی اور مناسب جرح و تعدیل کے ماتحت اہل علم ان روایات سے فائدہ اُٹھا سکیں گے۔احادیث کو ہی دیکھ لیجئے۔ان میں ہزاروں ایسی روایات درج ہیں جو اصول روایت کے لحاظ سے قابل اعتراض ہیں لیکن ان سے بہت سے علمی فوائد بھی حاصل ہوتے رہتے ہیں۔اور چونکہ ان کی روایتی کمزوری اہل علم سے مخفی نہیں ہوتی اس لئے ان کی وجہ سے کوئی فتنہ بھی پیدا نہیں ہوسکتا اور اگر کبھی پیدا ہوتا بھی ہے تو اس کا سد باب کیا جا سکتا ہے۔بہر حال مناسب حدود کے اندر اندر مرسل روایات کا درج کیا جانا بشرطیکہ وہ اصول درایت کے لحاظ سے رد کئے جانے کے قابل نہ ہوں۔اور ان سے کوئی نئے اور مفید معلومات حاصل ہوتے ہوں بحیثیت مجموعی ایسا نقصان دہ نہیں جیسا کہ مفید ہے یعنی نَفْعُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ اثْمِها والا معاملہ ہے۔واللہ اعلم۔یہ تو اصولی جواب ہے اور حقیقی جواب یہ ہے کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایسی روایتوں کے لینے میں بڑی احتیاط سے کام لیا ہے اور جہاں کہیں بھی مجھے یہ شبہ گذرا ہے کہ راوی اپنی روایت کے متعلق بلا واسطہ اطلاع نہیں رکھتا وہاں یا تو میں نے اس کی روایت لی ہی نہیں اور یا روایت کے اختتام پر روایت کی اس کمزوری کا ذکر کر دیا ہے۔اس وقت مجھے ایک مثال یاد ہے وہ درج کرتا ہوں۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ تلاش سے اور مثالیں بھی مل سکیں گی۔سیرۃ المہدی کے صفحہ نمبر ۱۳۲ روایت ۱۴۳ پر میں نے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کی ایک روایت منشی احمد جان صاحب مرحوم مغفور لدھیانوی کے متعلق درج کی ہے اور اس کے آخر میں میری طرف سے یہ نوٹ درج ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب منشی صاحب مرحوم سے خود نہیں ملے الہذا انہوں نے کسی اور سے یہ واقعہ سنا ہوگا۔میرے ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ میں نے اس بات کو مدنظر رکھا ہے کہ اگر راوی اپنی روایت کے متعلق بلا واسطہ علم نہیں رکھتا تو اسے ظاہر کر دیا جائے تا کہ جہاں ایک طرف روایت سے مناسب احتیاط کے ساتھ فائدہ اُٹھایا جاسکے وہاں دوسری طرف اس کی کمزوری بھی